امیرخسرو - Ameer Khusrow
اردوشعراویکی

امیرخسرو

اردو شعرا – ویکی

امیرخسرو

عرصہ: 1253 تا 1325

تعارف:

یہ آرٹیکل امیرخسرو کے مطلق ہے۔ امیرخسرو کو اردو شاعری کا باباآدم سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی بہت سارے اسلوبِ شاعری اور موسیقی ان سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

تاریخ:

چنگیزخان کی بڑھتی ہوئی بربریت نے جب وسطی ایشیا کی سلطنتوں کو تخت و تاراج کیا تو امیرسیف الدین اپنے پیدائشی شہر کیش، سمرقند سے ہجرت کر کے بلخ افغانستان تشریف لائے، اور یہاں سے انہوں نے بادشاہِ دہلی شمس الدین التتمش کو پیغام بھیجا اور دہلی میں پناہ لی، چونکہ التتمش بھی ترک نسل سے تھا، اس نے امیر سیف الدین کی خوب آو بھگت کی اور انہیں اچھے عہدوں سے نوازا۔

امیرسیف نے غیاث الدین بلبن کے فوج کے سالار، روات ارض، ایک ہندو راجپوت کی بیٹی بی بی دولت ناز سے شادی کی اور 1230ء میں انہیں پٹیالی، اترپردیش میں بادشاہ کی جانب سے جاگیر عطا ہوئی۔

امیر سیف اور بی بی دولتناز کے ہاں چار بچے پیدا ہوئے، 3 بیٹے اور ایک بیٹی۔ ان میں ایک بیٹا امیر خسرو تھا، جسکی جب عمر سات سال ہوئی تو امیر سیف کا انتقال ہو گیا۔ والد کے انتقال کے بعد امیرخسر کی والدہ اپنے والد کے گھر واپس آ گئی، جو ایک ہندوراجپوت تھااور جس کا لقب عمادالملک تھا، اسی کے سائے تلے امیرخسرو پروان چڑھا، اور اسی سائے کہ وجہ سے وہ ہندوستان سے بہت اچھی طرح واقف ہو گیا۔

پیدائش اور بچپن اور ابتدائی دور:

خسرو بچپن ہی سے ذہین و فطین واقع ہوا تھا، اور اپنی شاعرانہ زندگی کا آغاز صرف آٹھ سال ہی کی عمر میں کر دیا۔خسرو کا پہلا دیوان تحفہ السغر بچپن  کوئی سولہ سے اٹھارہ سال ہی کی عمر میں 1271ء میں منظرِ عام پر آ گیا۔  خسرو کے نانا کا انتقال جب ہوا خسر کی عمر 20 سال تھی، اسکے بعد خسرو نے  ملک چھجو جو غیاث الدین بلبن کا بھتیجا یا بھانجا تھا اور فوج کا سالار تھا، اسکے فوج کو جوائن کر لیا۔

فوج میں آنے کے بعد خسرو کی شاعرانہ سوچ کا پرچار شاہی خاندان میں بھی ہونے لگا، جس پر نصیرالدین بغراخان، جو بلبن کا دوسرا بیٹا تھا، اس نے خسرو کو دعوتِ کلام دی اور کلام سن کر خسرو کا دیوانہ ہو گیا۔ جب بغرا کو بنگال کو حکمران مقرر کیا گیا تو اس نے خسرو کو بنگال بلایا اور اسکا کلام سنا، خسرو اس وقت اپنا دوسرا دیوان “وسط الحیات” تحریر کر رہا تھا۔

ملتان اس وقت “گیٹ وے ٹو انڈیا” قرار دیا جاتا تھا، اور علم و ہنر، تعلیم و فکر کے ساتھ ساتھ علم کا گڑھ تھا، بڑے بڑے اکابرِ علم ملتان سے وابستہ تھے۔اس کے ساتھ ساتھ بغداد، عرب اور ایران تمامتر تجارت کا ہر راستہ ملتان سے ہو کر جاتا تھا۔ والئ ملتان بلبن کا بڑا بیٹا خان محمد تھا، جس نے 1280 کے قریب دہلی میں آکر خسرو کا کلام سنا اور اسے ملتان آنے کی دعوت دی۔امیر خسرو پانچ سال تک 1285 تک خان محمد کی سروس میں رہا۔ 1285 میں خان محمد مغلوں سے جنگ میں مارا گیا جس پر امیرخسرو نے دو نوحے لکھے۔

سرکاری عنایات:

غیاث الدین بلبن کے انتقال کے بعد جب بغرا نے بنگال سے دہلی آنے سے انکار کر دیا تو بغرا کے سترہ سالہ بیٹے معیذالدین قیقباد کو دہلی کی سلطنت کا حکمران بنا دیا گیا، خسرو نے قیقباد کی سروس میں دو سال گزارے۔ 1288 میں خسرو نے اپنی پہلی مثنوی قرن الصدین لکھی، جسکا مضمون بغراخان کی ایک مدت بعد اپنے بیٹے معیزالدین قیقباد سے ملاقات کے متعلق تھا۔ قیقباد 1290 میں اسٹروک لگنے سے شدید علیل ہو گیا اور اسکی جگہ اسکے تین سالہ بیٹے شمس الدین کیعمار کو سلطانِ دہلی بنا دیا گیا۔ اس وقت جلال الدین فیروز خلجی نے دہلی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، قیقباد کو قتل کر دیا اور سلطنتِ مملوک کا خاتمہ کر کے سلطنتِ خلجی کی بنیاد رکھی۔

جلال الدین خلجی بھی شعراء کا قدردان تھا اور خسرو کو ایک خاص مقام حاصل ہوا، اور خلجی نے اسے “امیر” کا خطاب دے کر “مصحف دار” کا عہدہ عطا کیا۔خسرو کی شاعرانہ سوچ خلجی سلطنت میں ایک نئے دور میں داخل ہوئی اور خسرو کو اپنے فن کو عروج پر لے جانے کا موقع ملا۔ خسرو کی لکھی ہوئی غزلیں مترنم طور پر گائے جانے لگیں اور ہر شب سلطان کے دربار میں محفلِ سرود سجائی جاتی۔

شاعرانہ کمال:

1290 میں خسرو نے اپنی دوسری مثنوی، مفتاح الفتوح مرتب کی، جس میں جلال الدین خلجی کے فتوحات کے قصیدے ہیں،  1294 میں خسرو نے اپنا تیسرا دیوان غرۃ الکمال مکمل کیا جس میں 34 سے 41 سال تک کے غرلیں اور شاعری شامل ہے۔

جلال الدین خلجی کے بعد علاؤالدین خلجی سلطنت کا بادشاہ بنا، خسرو نے علاؤالدین کے تعمیرات، فنون جنگ اور کمالاتِ انتظامیہ  کے فن کے متعلق اپنی مثنوی خزائن الفتوح لکھی۔

1298 میں خسرو کی شاعری کا عروج تھا، پہلے خسرو نے مشہورِزمانہ مثنوی خمسہ خسرو لکھی، جس میں پہلی مثنوی ، مطیع الانور 3310 اشعار پر مبنی جو کہ پندرہ دن میں لکھی، دوسری مثنوی خسروشیریں 4000 اشعار پر مبنی، تیسری مثنوی لیلیٰ مجنوں، جو عشق و محبت کے مضمون پر، چوتھی مثنوی آئینہ سکندری،جو 4500 اشعارد پر مبنی اور جس میں اسکندرِ اعظم کی فتوحات کا ذکر ہے لکھی  اور پانچویں مثنوی ہشت بہشت  جو خاندانِ ساسانیہ کے بادشاہ بہرام کے متعلق تھی لکھی۔ علاؤالدین خلجی خسرو کے عظیم الشان کام سے بیحد متاثر تھا جس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً بیش قیمت تحفے تحائف کی صورت میں دیتا رہا۔

جب علاؤالدین کے ہاں بیتے، قطب الدین مبارک شاہ خلجی، کی پیدایش ہوئی تو خسرو نے ایک زائچہ تیار کیا جسے اپنی مثنوی صائقانہ میں مرتب کیا۔

سن 1300 میں خسرو کی والدہ اور بھائی کا انتقال ہو گیا، خسرو نے انکی شان میں مثنویاں لکھی۔

صوفی بزرگ:

سن 1310 میں خسرو کو صوفی بزرگ نظام الدین اولیا کا قرب حاصل ہوا، 1315 میں خسرو نے ایک محبت کی مثنوی لکھی جسکا نام ‘دوال رانی – خضر خان’ تھا۔ دوال رانی واغیلاخاندان کی شہزادی تھی جسکی شادی علاؤالدین خلجی کے بیٹے سے ہوئی۔

علاؤالدین خلجی کا انتقال 1316 میں ہوا، جس کے بعد قطب الدین مبارک شاہ خلجی سلطنتِ دہلی کا بادشاہ بنا، خسرو نے اس دوران مثنوی لکھی جس کا نام نوہِ سپہر تھا، اور جس میں مبارک شاہ کی حکومت کے حالات تھے۔ خسرو نے یہ مثنوی 9 جلدوں میں لکھی،ہر جلد ایک آسمان کہلائی۔ اسی دوران خسرو نے ایک اور کتاب لکھی جس کا نام اعجازِخسری رکھا جو 5 جلدوں پر تھی۔ 1317 میں باقیہ ناقیہ، 1319 میں افضال الفوائد لکھی جس میں نظام الدین اولیا کی تعلیمات کا ذکر تھا۔

1320 میں مبارک شاہ خلجی خسرو خان کے ہاتھوں قتل ہو گیا اور خسروخان سلطنتِ دہلی پر قابض ہو گیا، مگر اسی سال خسروخان غیاث الدین تغلق کے ہاتھوں مارا گیا اور دہلی میں سلطنتِ تغلق کی بنیاد رکھی گئی۔ 1321 میں خسرو نے تغلق خاندان کے لیے مثنوی نہایت الکمال 1325 میں مکمل ہوئی۔

انتقال:

امیر خسرو کا انتقال اکتوبر 1325 میں نہایت الکمال کی تکمیل کے کچھ چھ ماہ بعد ہوا۔ خسرو کی وفات سے چھ ہی ماہ قبل انکے روحانی ماسٹر نظام الدین اولیا کا بھی انتقال ہوا۔ خسرو کو نظام الدین اولیا کے مقبرے کے ساتھ ہی دہلی میں دفن کیا گیا۔

امیرخسرو کو اردو کا پہلا شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے، بیشک امیرخسرو کیساتھ بہت سارے فنونِ لطیفہ وابستہ کیے جاتے ہیں جن میں بہت سے سازوں ، سروں اور طرزِ گیت و غزل اور قوالی بھی وابستہ کی جاتی ہے۔

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment

  • […] محمودغزنوی کے دربار میں ہر وقت شعرأ اور اہل علم کا جمگھٹا لگا رہتا، انکی زبان فارسی کی ایک قسم تھی، اسی طرح جب دہلی میں مقامی بادشاہت قائم ہوئی تو قطب الدین ایبک کی بھی زبان فارسی تھی، اس طرح دہلی اہل فارسی کا مرکز بن گیا۔درباری، علمی، فوجی، ملگی اور عدالتی زبان فارسی ہے بن گئی۔بھاشا کی نسبت فارسی میں زیادہ نکھار تھا اور اسی فارسی کے زیرِ سایہ بھاشا(جسے ہم اس وقت ہندوی بھی کہہ سکتے ہیں) پروان چڑھتی رہی اور فارسی کا اثر قبول کرتی رہی۔ یہ فارسی دراصل پرانی ایرانی زبان پہلوی اور جب مسلمانوں نے ایران کو فتح کیا تو حکمران زبان عربی  کے اکثر و بیشتر الفاظ پہلوی میں بڑی خوبصورتی سے جڑتے چلے گئے اورپہلوی جو مزید نکھری اسے فارسی کہا جانے لگا، یہی فارسی ایران، افغانستان، ترکستان تھی اور یہی زبان مسلمان اپنے ساتھ ہندوستان لائے۔ یہی زبان اردو کو پروان چڑھانے میں مددگار بنی۔ اس زبان نے ہندوستان کے تمام مسلمان بادشاہوں میں ایک خاص عقیدت تھی، درباری، علمی، سرکاری زبان ہونے کی وجہ سے بہت اعلیٰ علم و ہنر کی محفلیں سجتیں۔ اسی دور میں وسطی ایشیا میں منگولوں کی بربریت نے سر اٹھایا اور کیش ، سمرقند سے ایک بزرگ اپنا وطن چھوڑ کر دہلی آ کر آباد ہوئے انکا نام سیف الدین تھا، جو امیرخسرو کے والد تھے (مزید دیکھیے امیرخسرو)۔ […]