اردوتاریخ

“اردو”

“اردو”

.اردوتاریخ کے جھرنوں سے

ماڈرن اسٹینڈرڈ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے

پاکستان کی قومی زبان ہونے کیساتھ ساتھ یہ ہندوستان کی چھ ریاستوں میں سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے، وہ چھ ریاستیں یہ ہیں: جموں اور کشمیر، تلاگانا، اترپردیش، بہار، جھرکنڈ اور مغربی بنگال اور دھلی۔ اسکے علاوہ یہ نیپال میں بھی رجسٹرڈ علاقائی زبان ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ دنیا کی 21ویں زیادہ بولی جانے والی مادری زبان ہے اور اسٹینڈرڈ ہندی کو ملا کر اس وقت دنیا کی مینڈرین اور انگریزی کے بعد تیسری زیادہ بولی جانے والی مادری زبان ہے۔

اردو انڈویورپئین زبانوں کی نسل میں سے ہے اور یہ عربی طریقِ خط پر نستعلیق فونٹ میں لکھی جاتی ہے۔ (یہ تحریر جو آپ اس وقت پڑھ  رہے ہیں، یہ نستعلیق کی مثال ہے)۔
اردو کے لکھنے کی قسم  کو ابجد کہا جاتا ہے، ابجد ان زبانوں کو کہا جاتا ہے جہاں حروفِ تہجی میں صرف consonants پائے جاتے ہیں vowels نہیں ہوتے، اور جہاں پڑھنے والا بخوبی جانتا ہوتا ہے کہ یہاں کونسا vowel لگانا ہے۔ عربی اسکی بہت اعلیٰ مثال ہے کہ قدیم ترین عربی اور خود قرآنِ پاک کے وقت نزول حروف پر کوئی زیر زبر پیش وغیرہ نہیں تھے ۔ ایسی زبانوں کو پھر اعراب کیساتھ مزین کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اردو میں بھی ایک وقت میں نقطہ تک نہیں لگایا جاتا تھا، بلکہ پہلے زمانوں میں منشی اپنی توھین سمجھا کرتے تھے اگر وہ کوئی خط پڑھیں جس میں نقطے لگے ہوئے ہوتے۔ اردو میں ہمارے پاس اب بہت سارے اعراب ہیں جن سے ہم الفاظ کا درست تلفظ پیش کر سکتے ہیں، ایسی زبان کو impure-abjadکہا جاتا ہے۔  پرانی اردو کی تحریروں سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ نون غنہ نہیں تھا اسکی جگہ نون ہی استعمال کی جاتی تھی، اسکی ایک مثال اسی پوسٹ میں نیچے ہے۔

اردو بذاتِ خود ترکش زبان کا لفظ ہے جسکی معنی فوجی پڑاؤ یا لشکر کے ہیں مگر اردو پر ترکش کا بہت کم اثر ہے،  چونکہ اردو اور ترکش میں عربی کے بہت سارے الفاظ موجود ہیں، دونوں زبانوں میں اکثر ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں، جو مشترک ہیں۔

تاریخ

اردو کی تاریخ  کو سمجھنے کے لیے ہمیں ہندوستان کی تاریخ پر نظر ڈالنی پڑے گی۔

آریان نسل کے لوگ بحیرۂ اسود، بحیرۂ اخضر اور کاسپئین سی کے درمیان رہتے تھے، ہزاروں سال پہلے  انکی ہجرت  مشرق اور مغرب تک ہوئی جس میں مشرق میں ایشیا کے علاقے اور مغرب میں یورپ کے علاقے شامل ہیں۔   تقریباً سبھی جرمانک اور انگلین (یعنی جرمنی اور اسکے شمال، اور انگلستان) کے لوگ انہی کی نسل سے ہیں، جبکہ ایشیا میں ایک بہت بڑی نسل جس میں آرمینیوں، ایرانیوں اور شمالی ہندوستانیوں کی بڑی نسل انہی  سے ہے۔ یہ لوگ ایران سے وسطی ایشیا پہنچے اور ساتھ افغانستان، وہاں سے جنوب میں پختونخواہ سے ہوتے ہوئے پنجاب پہنچے ۔ یہ لوگ بہت سادہ اور دین پرست تھے، مویشی پالنا اور کھیتی باڑی کرنا انکا پیشہ تھا اور چونکہ پنجاب میں پانی کی وافر تعداد اور موسم کی موافقت کے باعث اور پنجاب کی ہریالی کو دیکھ کر یہی پر آباد ہو گئے۔ ان لوگوں کے ہاں دین اور دنیا کا ایک مکمل ضابطہ موجود تھا، دین کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ تھے اور عیش عشرت کے خلاف تھے، سادگی پسند تھے مگر اپنا دفاع ڈٹ کر کرسکتے تھے۔ انہی لوگوں کی جو نسل یورپ کی طرف ہجرت کر کے گئی انہوں نے یورپ کو بھی ایسے ہی آباد کیا۔ چونکہ یورپئین اور ایرنی، ہندوستانی آریان کی نسل ایک ہی تھی، انکی زبانیں بھی کافی حد تک ملتی جلتی تھی، اور یوں سنسکرت جو قدیم ایرانی زبانی کے تقریباً مشابہ تھی انکے اکثر الفاظ یورپئین جن میں یونانی، اطالوی  ملتے جلتے تھے۔

زبانوں کی اسی ڈیویلپمنٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرلسانیات نے دنیا بھر کی زبانوں کو تین بڑے حصوں میں بانٹا ہے:

انڈو-یورپئین  جن میں سنسکرت، قدیم ایرانی، یونانی، لاطینی، ارمانی، فرانسیسی، جرمن، روسی اور انگریزی وغیرہ آتی ہیں
سمیٹک یا سامی زبانیں جن میں عربی، عبرانی، کلدانی، قبطی وغیرہ
تورانی زبانیں: جن میں دنیا بھر کی دوسری زبانیں آتی ہیں، جن سے پھر ہزاروں ڈائلاکٹ پیدا ہوئے

اگر ہم اردو کی پہچان کریں تو اس طرح ہو گی:

انڈویورپئین
– انڈوایرانین
– – سینٹرل زون (ہندی)
– – – ویسٹرن ہندی
– – – – ہندوستانی
– – – – – کھریبولی
– – – – – – اردو

ہندوستان اس وقت جنگلات میں گھرا ہوا تھا اور کہیں کہیں دراودی نسل کے لوگ آباد تھے، جنکی زبانوں کو پراکرت کہا جاتا تھا۔ جب آریان نسل کے لوگوں نے ان پر حملہ کیا تو یہ لوگ انکے حملوں کی تاب نہ لا سکے اور جنگلات سے ہوتے ہوئے مشرقی (دکن) اور جنوبی ہندوستان کی جانب چلے گئے، ان کی ہجرت سے تیلگو، تامل، کناری، ملیالم قسم کی زبانیں وجود میں آئیں، ان زبانوں کا سنسکرت سے کوئی تعلق نہیں مگر سنسکرت کے چندے الفاظ ان زبانوں کا حصہ بنے رہے۔  شمالی  اور شمال مغرب میں جو مقامی لوگ رہ گئے اور جنہوں نے آریان کی حکومت قبول کر لی ان کو شودر کہا جانے لگا۔ جبکہ آریان نسل کے جو لوگ ہندوستان میں آ کر حکمران بنے انہیں ہندو کہا جانے لگا، انہوں نے اس کا نام آریہ ورت اور بھارت ورش کے نام دئیے۔ انکی اکثریت پنجاب اور گنگا جمنا کے درمیان آباد ہوئے اور سنسکرت زبان انکی زبانی کہلائی، جو قدیم ایرانی سے بہت مشابہ تھی۔

پراکرت

کئی سو سال بعد آریانوں کی ایک اور نسل ہندوستان کی جانب آئی اور پہلے سے جو آریانوں کی سلطنت قائم ہو چکی تھی، اس سے جنگ کی اور انہیں ان کے دیس سے نکال دیا اور خود پنجاب، سندھ، گجرات، صوبجات متحدہ بہار، آسام اور اڑیسہ تک ان نوواردوں کی حکومت قائم ہو گئی اور اسکا نام انہوں نے مدھ دیش رکھا جبکہ پہلے سے موجود ان علاقوں سے نکل کر جنوب، مشرق اور درسرے علاقوں کی طرف نکل پڑے۔ اس سے دو بات عمل میں آئیں:

اول تو  آریان نے پراکرت اپنائی اور پراکرت روز مرہ کی زبان بنی  جو سنسکرت کے مقابلے زیادہ عام فہم اور سادہ تھی اور ویدوں کے زمانے میں بولی جانے لگی، چھوٹے چھوٹے الفاظ سے آسان اور سہل زبان میں بات چیت ہونے لگی، گوکہ زبان کی یہ آسانی کافی سال تک جاری رہا۔اس پراکرت کی مختلف شاخیں بنیں:  1) پشاچی  2) مہاراشٹری  3) ماگدھی  4) سورسینی

دوسری بات یہ ہوئی کہ شاکیامنی یا جسے بدھا بھی کہا جاتا ہے اس نے مگدھ  کی پراکرت میں وعظ شروع کر دیا، اسی زمانے میں جین مت کے بانی مہابیر نے بھی اپنے مذہب کو پھیلایا اور ماگدھی میں اپنی  تصانیف چھوڑیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ زبانیں ہر کسی کی سمجھ میں انتہائی آسانی سے آ جاتی تھیں۔ بدھا کے مذہب نے خوب ترقی کی اور سماج کے اندر ایک زبردست انقلاب پیدا ہوا، اسکی فطری نتیجہ یہ ہوا کہ ماگدھی زبان درباری اور عدالتی زبان بن گئی اور خوب ترقی کی۔  کئی سو سال بعد یہی زبان بدھ مذہب کے راجاؤں کے ہاں پالی کہنا شروع ہو گئی، چونکہ  بدھ مذہب کے لوگ عروج پر رہے سنسکرت دبی رہی۔

چھٹی صدی عیسوی، جب عرب میں نبی پاک ﷺ کا ظہورِ منور کی تیاریاں تھی، راجہ بکرماجیت کی بدولت برہمنوں نے پھر سے زور پکڑنا شروع کیا اور ساتھ ہی سنسکرت کو پھر سے عروج ملنا شروع ہو گیا،  800 ؁ میں شنکراچارج کی برکتوں سے برہمنوں نے بدھ مت پر فتح پائی اور سنسکرت کی بہار شروع ہو گئی۔ سنسکرت پھر سے درباری اور علمی زبان ضرور بن چکی بھی مگر پراکرت اب بھی عام سطح کے لوگوں کی زبان رہی مگر تغیر برقرار رھا اور قریب قریب 1000 ؁ کے اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں وہ قدیم ہندی سے ملنے لگی۔

جیسا کے اوپر لکھا ہے کہ پراکرت کے پہلے روپ سے چار شاخیں وجود میں آئیں: پشاجی کی نسبت علم نہیں، جبکہ مہاراشٹری سے مراٹھی زبان نکلی، ماگدھی  پراکرت بگڑ کر اور بدل کر مشرقی ہندی بنی جو بنارس اور بہار میں بولی جاتی ہے۔ جبکہ سورسینی سے برج بھاشا نکلی جو دہلی، متھرا، آگرہ اور اسکے گردونواح میں بولی جاتی ہے۔ یہی برج بھاشا اردو زبان کی ماں ہے، اور محمود غزنوی کے زمانے میں دہلی اور آگرہ میں بولی جاتی تھی اور اس پر مسلمان فاتحین کی وجہ سے عربی اور فارسی کا خاص الخواص اثر تھا جو آج تک موجود ہے۔ یہ برج بھاشا تقریباً نو سو برس سے بولی جاتی رہی ہے مگر جیسے کہ دوسری زبانوں کی صورت تھی، ایسے ہی برج بھاشا بھی بتدریج پالش ہوتی رہی، مگر اسکا ڈھانچہ، اسکا اسٹریکچر آج بھی وہی ہے جو گیارہویں صدی سے چلا آ رہا ہے۔ اس بھاشا کو عروج دینے والے خاص کر راجپوت تھے، جو ہندوستان میں برہمنوں کے زوال کے بعد عروج پانے لگے۔مگر جلد ہی انکے ہاتھوں سے ملک پھر سے نکلنے لگا۔

ہند میں مسلمانوں کا عروج
اردو کی تاریخ میں مسلمانوں کا ہندوستان میں آنا، فتوحات حاصل کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آئیے ذرا اس پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔
راجہ دہر جو اس وقت سندھ کا برہمن راجہ تھااس نے موجودہ کراچی کے قریب مسلمانوں کا ایک تجارتی جہاز لوٹ لیا، اسکو چھڑوانے اور راجہ کو سبق سکھانے کے لیے حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کوایک فوج کا سپہ سالار بنا بھیجا، محمد بن قاسم نے دبل کے قریب راجہ دہر کو شکست دیکر اسکا سر کاٹ کر خلیفہ کو بھیج دیا اور خود سندھ اور پھر پنجاب پر حملہ کر دیا اور ملتان جو اس وقت ہندوستان کو گیٹ وے کہا جاتا تھا، فتح کر لیا اور مسلمانوں کی برھتی ہوئی سلطنت میں شامل کر لیا۔  1010 ؁ میں محمودغزنوی نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا اور پھر کچھ عرصہ تک طاقت کی کشمکش چلتی رہی، ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا، جہاں جہاں ہندوؤں کی حکومتیں تھیں وہاں ہندوؤں میں شدید نفرت تھی، اور جہاں جہاں مسلمانوں کی حکومتیں تھیں وہاں وہاں مسلمانوں میں ناچاکیایوں کی وجہ سے ہندوستان کی حالت ابتر تھی، ان حالات کو دیکھ کر شہاب الدین غوری نے ہندوستان پر حملہ کیا اور پہلی بار کی شکست کے بعد دوسرے حملے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اسکے بعد مسلمانوں کے قدم مضبوطی سے جم گئے۔ قطب الدین ایبک پہلا مقامی مسلمان حکمران تھا جسکی وجہ سے مسلمانوں کا اثر دن بدن بڑھتا اور پھیلتا گیا۔ ایکے بعد دوسرا مسلمان خاندان حکمران بنا اور 1857 ؁ تک عالیشان حکمرانی کی۔

محمودغزنوی کے دربار میں ہر وقت شعرأ اور اہل علم کا جمگھٹا لگا رہتا، انکی زبان فارسی کی ایک قسم تھی، اسی طرح جب دہلی میں مقامی بادشاہت قائم ہوئی تو قطب الدین ایبک کی بھی زبان فارسی تھی، اس طرح دہلی اہل فارسی کا مرکز بن گیا۔درباری، علمی، فوجی، ملگی اور عدالتی زبان فارسی ہے بن گئی۔بھاشا کی نسبت فارسی میں زیادہ نکھار تھا اور اسی فارسی کے زیرِ سایہ بھاشا(جسے ہم اس وقت ہندوی بھی کہہ سکتے ہیں) پروان چڑھتی رہی اور فارسی کا اثر قبول کرتی رہی۔ یہ فارسی دراصل پرانی ایرانی زبان پہلوی اور جب مسلمانوں نے ایران کو فتح کیا تو حکمران زبان عربی  کے اکثر و بیشتر الفاظ پہلوی میں بڑی خوبصورتی سے جڑتے چلے گئے اورپہلوی جو مزید نکھری اسے فارسی کہا جانے لگا، یہی فارسی ایران، افغانستان، ترکستان تھی اور یہی زبان مسلمان اپنے ساتھ ہندوستان لائے۔ یہی زبان اردو کو پروان چڑھانے میں مددگار بنی۔ اس زبان نے ہندوستان کے تمام مسلمان بادشاہوں میں ایک خاص عقیدت تھی، درباری، علمی، سرکاری زبان ہونے کی وجہ سے بہت اعلیٰ علم و ہنر کی محفلیں سجتیں۔ اسی دور میں وسطی ایشیا میں منگولوں کی بربریت نے سر اٹھایا اور کیش ، سمرقند سے ایک بزرگ اپنا وطن چھوڑ کر دہلی آ کر آباد ہوئے انکا نام سیف الدین تھا، جو امیرخسرو کے والد تھے (مزید دیکھیے امیرخسرو

یہ وہ ادوار تھے جب خود مسلمان بادشاہوں کو ماسوائے ہوسِ طاقت و دولت کے اور کچھ نہیں سوجا، اور خاص کر افغان بادشاہوں کی ہندوستان کی یلغار صرف دولت حاصل کرنے تک تھی، وہ غزنی میں تو علم و فن کے دیداہ تھے مگر ہندوستان میں انہوں نے کوئی خاص کام نہ کروایا۔ اس دوران 2 مذہبی تحریکیں اٹھیں: ایک کبیر کی کبیرپنتھ  اور دوسری گورونانک کی۔ گورونانک کی تحریک نے سکھ ازم کو جنم دیا، یہاں جو بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ انہوں نے جو زبان ذریعٔ پیغام بنائی وہ ہندی کی وہ قسم تھی جو ہر انسان کے سمجھ میں انتہائی آسانی سے آتی تھی، اور جسکا کلام پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھاشا کے قریب ہے جس میں عربی اور فارسی کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔

مغلوں کے دور میں اور خاص کر اکبراعظم کے دور میں ہندوستان کو پہلی بار امن نصیب ہوا اور یہ وہ دور تھا جب علم و ہنر، فنونِ لطیفہ اور علم کی مشقیں عروج پر تھیں، مسلمان جیسے فیضی اور خانخاناں جو اکبر کے نورتن میں تھے وہ سنسکرت سیکھ کر بڑی بڑی کتابیں فارسی میں ترجمے کر رہے تھے اور ہندو فارسی سیکھ کر اس میں مقام پیدا کررہے تھے۔ ہر جانب فنونِ لطیفہ کو عروج تھا، کیا موسیقی، کیا شعروشاعری، کیا ادب و نثر، کہا جاتا ہے کہ صرف اکبر کے کتب خانے میں اس وقت چوبیس ہزار سے زیادہ کتب تھیں جبکہ اکبر خود انپڑھ تھا! ۔۔۔اسی دور میں ہندوستان میں بہت بڑی تبدیلیاں ہوئیں، جس میں رسمیں، دستور، دین، علوم و فنون، حکمت اور حکومت الغرض روزمرہ کی زندگی میں بہت ساری چیزیں بدلنے لگیں۔ اس میں وہ زبان جو دہلی، آگرہ، لکھنؤ اور انکے مضافات میں زبانِ عام تھی، مگر ہندی نہ تھی، جسے کچھ لوگوں نے ہندوی لکھا، کچھ نے ریختہ اور کچھ نے بھاشا لکھا، اس میں عربی، فارسی کی آمیزش کی تراکیب عام ہونے لگیں اور اس زبان کو عروج ملنا شروع ہوا۔  اس زمانے کی ایک کتاب کا ایک پیراگراف:

وہ بہت دنون سے بیمار ہےاور علاج بھی مدت سے ہو رہا ہے، پر اب تک کچھ فائدہ نظر نہیں آتا۔ حالت اسکی اب ایسی ہے کہ جسم مین خون باقی نہین رہا اب تو بس خدا ہی کا آسرا ہے

 یہ پیراگراف اور آج کی اردو کس قدر مماثلت رکھتے ہیں اس اندازہ آپ خود کر لیجیے۔   اوپر کی  تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوی یا بھاشا کو  بحثیت ایک منظم زبان کبھی  ترویج نہیں دی گئی اور نا ہی کبھی جان بوجھ کر اسے کر تکمیل کے لیے کوئی خاص خاطرخواہ کوشش کی گئی ہے۔نہ اسے ہندوؤں نے تشکیل کیا، نہ مسلمانوں نے، نہ یہ کسی تحریک کے تحت پیدا ہوئی نہ تجربے سے  بلکہ یہ خود بخود پراکرت اور دراودی سے پیدا ہوئی، بھاشایا ہندوی بنی ، خودبخود ترویج و تکمیل کے مراحل طے کرتی رہی اور خود بخود اس میں عربی اور فارسی کی آمیزش سے ایک خوبصورت زبان کی تشکیل میں ڈھلتی رہی، جیسا کہ بتایا گیا کہ اسکا کوئی ایک خاص نام نہیں تھا، ہندوستانی سے لیکر ہندوی، اور بھاشا سے ریختہ تک سب نام استعمال کیے گئے۔۔ 

خواجہ میردردؔ کے بھائی میراثرؔ نے بھی اپنی مثنوی خواب و خیال کو ہندوی یا ہندی میں لکھا، اس کا ایک شعر:

فارسی سو ہیں، ہندوی سو ہیں
باقی اشعار مثنوی سو ہیں

البتہ مسلمانوں کے ہندوستان میں عروج کا اسکی ترویج و ترقی میں بہت گہرا اثر رہا ہے۔    اردو کی نشونما چھٹی صدی عیسویں سے لیکر 13ویں صدی عیسوی کے درمیان ہوئی۔ اور واضع ثبوت کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گیارہویں اور بارہیوں صدی عیسوی میں دہلی اور اسکے گردونواح میں ایسے زبان موجود تھی، جو ہندی نہیں تھی مگر رواج پا چکی تھی۔   بیشک اردو کی  ترویج میں تقریباً 75فیصد الفاظ سنسکرت اور پراکرت سے ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد اب عربی اور فارسی کی ہے۔ اس دور کی اردو کا ایک امیر خسرو کا شعر ملاحظہ کیجیے:

گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈالے کیش
چل خسرو گھر اپنے سانجھ بھئی چھون ویش

اسی طرح کبیر کی ایک بھجن بھی ملاحظہ فرمائیے:

تم رہنا خوب ہوشیار
نگر مین چور جو آوے گا
تفنگ تیر تلوار نہ برچھی
نہ بندوق چلاوے گا
بھیت نہ پھوڑے اور نہ پھاندے
نا کومل لگا وے گا
ایک فریاد چلے نہ تیری
ایسا لشکر آوے گا
دیکھین سب پروار کھڑے ہو
توھے چھین لے جاوے گا
کوئی کھوجی کھوج نہ پاوے
لاکھ جو عقل دوڑاوے گا
کام کرودھ اور لوبھ موہ
جوان کو دور بگھاوے گا
صاحب کی درگاہ مین پیارے
کھلے کواڑے جاوے گا

ریختہ، ہندوی، ہندوستانی اور اردو

بہت ساری روایتوں سے یہ بات کافی حد تک وزن رکھتی ہے کہ اھلِ علم کے ہاں اس کا نام ہندوی تھا، جیسا کہ 1390ء میں قاضی خان بدر نے جس زبان میں لکھنا شروع کیا  اسے اردو نہیں ہندی یا ہندوی کہا جاتا تھا۔ قدیم لغات اور تاریخ کی کتابوں میں بھی اسے ہندوی کہا گیا جیسا کہ مفتاح الفضلا نے 1451ء اور دستورالصبیان 1568ء میں اسے ہندوی لکھا۔ خواجہ نصیرالدین چراغ دہلوی (1330ء) ، شرف الدین یحییٰ منیری(1350ء) اور اشرف جہانگیر سمنانی(1368ء) نے بھی اپنی تحریروں میں اس زبان کو ہندوی یا ہندی لکھا ہے۔ مگر ایک حقیقت ہے کہ اس زبان کے گوکہ مختلف دور میں مختلف نام تھے مگر اسکی اصل ترقی اور ترویج  شہنشاہ شاہجان کے دور سے شروع ہوئی، اسکو جدید اردو کا پہلا دور کہا جاتا ہے۔

شاہجہان نے اسوقت موجود دلی شہر کے قریب ایک نیا شہر آباد کیا اور جس کا نام شاہجہاں آباد رکھا (آج کل یہ شہر نئی دہلی کے نام سے جانا جاتا ہے)۔ ساتھ سے درالحکومت بھی شاہجہاں آباد میں منتقل کر دیا ، جسکی وجہ سے اس شہر کی رونق کئی گنا بڑھ گئی، ایک لشکری بازار قائم ہوا جسکا نام اتفاق سے اردو تھا، اور وہاں یہ بھاشا، یا ہندوی زبان عام طور پر بولی جاتی تھی، وہ اس لشکری بازار میں بھی بولی جاتی تھی، اس زبان میں عربی اور فارسی کی آمیزش زیادہ س زیادہ ہونے لگی، یہ 16ویں صدی عیسویں کا زمانہ تھا جہاں مذہب کی مکمل آزادی تھی، ہندوعالم عموماً مشرقی ہندی یعنی اصل ہندی استعمال کرتے جبکہ  دوسری جانب مغربی ہندی یعنی بھاشا استعمال کی جاتی، اب چونکہ بھاشا میں عربی اور فارسی کی بڑے پیمانے پر آمیزش ہو رہی تھی اور زبان اپنی حالت بدل رہی تھی اس نئی اور بدلتی ہوئی زبان کو ریختہ کہنا شروع کردیا گیا۔یہ بات عام سطح پر زبردست مقبولیت حاصل کرنے لگی۔

ریختہ کہلانے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس دور میں اردو نظم اور غزل نے ترقی شروع کی۔ اس کی ابتدأ اتفاق کی بات ہے دہلی سے نہیں بلکہ گولگنڈہ اور دکن سے ہوئی۔  اس دور میں دکن میں ولی محمد ولی کی بدولت ریختہ غزل گوئی کو ایک زندگی ملی ، اسوقت تک اردو شاعری ابھی اپنے شناخت کی تلاش میں تھی، کبھی پذیررائی ہوتی تو کبھی چھوڑ چھاڑ دیا جاتا، مگر ولی کی کوششوں سے اسکا ایک مقام ملا، ولی نے 1700  ؁ میں دلی کا دورہ کیا  اور اسوقت کے شعرأ سے ملے جو زیادہ تر فارسی میں شاعری کیا کرتے تھے، ولی سے ملاقات کے بعد انکے بھی چودہ طبق روشن ہوئے اور ریختہ کو یکدم پذیرائی ملنا شروع ہوئی۔ ولی کا اثر اردوادب پربڑا گہرا ہوا کہ اب وہ لوگ جو فارسی کو اظہارِ خیال بنانے کے عادی تھے انکی فکر اردو بننے لگی، ساتھ ہی عربی اور فارسی کی خوبصورت استعمال نے اردو میں کشش پیدا کر دی، ولی کا دیوان پڑھیں تو یوں لگتا ہے جیسا آج کی ماڈرن اردو وہی اردو تھی، چند ایک الفاظ کے سوا جو اب یا تو متروک ہو چکے ہیں یا انکے متبادل اچھے الفاظ تلاش ہو چکے ہیں۔ اور یہی دراصل اردو کا حسن ہے کہ زبان بتدریج بہتر  ہوئی ہے۔

ولی ہی کے کلام کے بدولت دلی میں شعرأ کے دو بڑے گروہ پیدا ہو گئے، ایک استاد ظہورالدین حاتم کا تھا دوسرا خان آرزو کا۔ ان اساتذہ کی اصلاح کی بدولت اردو نظم میں بڑا زور اور جوش پیدا گیا۔ نتیجتاً سوداؔ، میرتقی میرؔ، مرزاجان جاناں اور خواجہ میردردؔ جیسے بلندپایہ شعرأ اردو کو اپنا اظہارِ خیال بنانے لگے، ان اعلیٰ پائے کے شعرأ نے اردوزبان کو وہ رونق بخشی کہ گلی کوچوں، گھروں  چوباروں پر یہاں تک کہ شاھی محل تک اسکے چرچے ہونے لگے۔

بہت درست معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ زبان اپنی بلوغت کو پہنچ کر اپنا ایک مقام بنا چکی تھی اور ہندی سے الگ ایک مکمل زبان کا درجہ پا چکی تھی تو اسکا اصل نام تجویز کیا گیا، تاریخ سے ہمیں سوفیصد یقین سے نہیں پتا چلا کہ اسکا موجودہ نام کب اور کس نے رکھا، مگر ایک بہت مستند اشارہ اردو کے ایک بہت اعلیٰ شاعر غلام ہمدانی مصحفی کی طرف جاتا ہے، جنہوں نے  1780 کے قریب اسکا نام اردو لکھا۔

بیسویں صدی میں اردو نے بہت ترقی کی، بہت سے اہل سخن اور کاتب حضرات پیدا ہوئے اور اردو میں معرکۃ الآرا کتب تصنیف کیں! تفصیل کے لیے دیکھیئے فہرستیں۔

دلی کی ماند اور لکھنؤ کا چاند

مغلوں کی حکومت کمزور پڑنے لگی اور دہلی کو کئی ایک بار لوٹا گیا، جسکے بعد مرہٹوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا تو مشاعروں کی محفلیں بھی ماند پڑ گئی، اہلِ ذوق لٹنے لگے اور اسوقت لکھنؤ واحد جگہ تھی جہاں ابھی اردو ادب کا اب رنگ باقی تھا، جسکی بدولت اکثر شعرأ ادھر چلے گئے۔ لکھنؤ میں اب وہی رونق بحال ہونے لگی اور ایسا ایسا کمال کا استاد پیدا کیا جیسے خواجہ حیدرعلی آتش، ناسخ، انیس اور دیبر وغیرہ۔ اٹھارھویں صدی عیسوی کے آواخر میں پھرسے مغلوں کو دہلی پر حکومت کرنے کا موقع ملا اور شاہ عالم ثانی بادشاہ ہوا، وہ بذاتِ خود اردو کا ایک شاعر تھا اور چار دیوان مرتب کیے، کہاں شاہجان اور ارنگزیب عربی اور فارسی والے کہاں اب ان ہی کی اولاد اردو میں اپنا مقام پیدا کر رہی تھی۔ اردو کر ترویج میں بعد میں بڑےبڑے نامور شعرأ پیدا ہوئے جیسے ذوق، غالب، حالی ، اقبال جنہوں نے اردو کو بلندپایہ ترقی دی۔

ایک افسوس جو شدت سے اردو سے وابستہ رہا ہے کہ گوکہ یہ اظہارِ خیال کے لیے  اہم زبان ہو چکی تھی یہاں کہ حاکمِ وقت کے اردو دیوان موجود تھے مگر صد افسوس کہ کوئی نثر کی کتاب نہ لکھی گئی، یہاں تک کہ نثر کی جانب کسی قسم کو کوئی بھی توجہ نہ دی گئی، مزید اذیت یہ کہ سب سے پہلی اردو کی تصنیف کے لیے انگریزوں کا سہارا لیناپڑا جب فورٹ ولیم کالج میں جہاں اردو پڑھائی جاتی تھی، مگر اردو کی کوئی خاطر خواہ کتاب موجود نہ تھی، تو انگریز ڈاکٹر جان گلکرسٹ  جو فورٹ ولیم کالج کے مہتمم تھے انہوں نے اردو کے نام یافتہ عالموں کو کلکتہ بلایا اور ان تحفے تحائف دیکر اردو میں کتابیں لکھوائیں۔ یوں کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلی کتاب میرمحمدعطاحسین خان تحسین نے 1798 ؁ میں امیرخسروکی مشہور فارسی کتاب چہاردرویش کا اردو ترجمہ کیا۔ پھر 1799 ؁ میں میرشیرعلی افسوس نے باغ و بہار لکھی، اٹھارویں صدی کے اخیر میں یہی دو کتابیں اردو نثر سے متعلق تھی۔

البتہ انسیویں صدی کے اوائل ہی میں سے اردونثر پر بہت تیزی سے کام ہونا شروع ہوا۔ فورٹ ولیم کالج کے لیے سید محمدحیدربخش حیدری نے طوطاکہانی، آرائش محفل، وہ مجلس، گلزاردانش اور تاریخِ نادری لکھی، یہ 1801 ؁ سے شروع ہوئیں۔ میربہادرعلی حسینی نے 1802 ؁ میں اخلاق ہندی اور نثر بے نظیر لکھی، میر امن لطف دہلوی نے باغ و بہار لکھی۔۔۔

اس عہد کے صوفیا اور ادبی تصانیف بھی اس امر کی توثیق کرتے ہیِ جیسا کہ شاہ میراں جی شمس العشاق (1496ء)، شاہ برہان جانم (1582ء) اور جعفرزٹلی (1713ء) کیساتھ ساتھ عبدل بیجاپوری کی کتا ابراہیم نامہ، ملا وجہی کی کتاب سب رس اور فضلی کی کتاب وہ مجلس میں اردو کا نام ہندی یا ہندوی ہی لکھا ہے۔ حاکم دکن ابراہیم عادل شاہ نے حکومت سنبھالی تو اس نے فاری کی جگہ اردو یعنی ہندوی کا سرکاری زبان قرار دیا۔


پاکستان کی سرکاری زبان
تشکیلِ پاکستان کے بعد  19 مارچ 1948 کو قائداعظم محمدعلی جناح نے ڈھاکہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیدوران فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی، مگر ساتھ ہی بنگال کو اجازت دی کے اگر سیاسی قیادت چاھیں تو اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان چن سکتے ہیں ۔ 

کمپیوٹرائزڈ اردو:

آج ہم جس مقام پر ہیں یہ ٹیکنولوجی کا زمانہ ہے، اب تمام تر خطاطی تقریباً کمپیوٹر سے کی جاتی ہے، جیسا کہ یہ ویب سائٹ بھی اس کی مثال ہہے، ذیل میں اردو کی بورڈ کی ایک مثال دی جا رہی ہے۔

حوالہ جات:
اردوزبان کی تاریخ مکتبہ کتابستان دھلی 1930
اردو ادب کی مختصر تاریخ از ڈ سلیم اختر مکتبہ سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور
ویکی پیڈیا
ویب سائٹس

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment