Dedicated to Nazia Hassan
Dedicated to Nazia Hassan
بیت بازی

بیت بازی حصہ اول

بیت بازی

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

بیت بازی

یہ قصہ جو ہے چار درویش کا
اگر نظم ہو تو بہت ہے بجا

بیت بازی

ایک مسافت ایک اداسی ایک فرازؔ
ایک تمنا، ایک شرارا، ایک خیال

بیت بازی

لکھنا میرے مزار کے قطبے پہ یہ حروف
مروحوم زندگی کی حراست میں مر گیا

بیت بازی

اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے
ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گذاریں گے
دھڑکنیں بچھا دین گے شوخ تیرے قدموں میں
ہم نگاہوں سے تیری آرتی اتاریں گے

بیت بازی

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا

بیت بازی

اس ضعف میں تو آتا ہے سینے سے لب تلک
کہتے ہیں ہم اپنے نالے کو نا رسا عبث

بیت بازی

ثمر مل گیا مجھ کو میری دعا کا
میری زندگی اب چمکنے لگی ہے
ہوئے دور سب زندگی کے اندھیرے
اجالوں کی منزل مجھے مل گئی ہے

بیت بازی

یادش بخیر عہدِ محبت کی شاعری
اک آہ تھی جو گیت کے سانچے میں ڈھل گئی

بیت بازی

یوں بھی ہوا ہے دل کے مقابل دنیا تھی
پھربھی نہ ہارا پھر بھی نا ہارا ایک خیال

بیت بازی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
نہ اپنی خوشی آئے نہ اپنی خوشی چلے

بیت بازی

یادیں وہ تمہاری سب سمندر کو سونپ دیں
اور کر دئیے ہوا کے حوالے تمہارے خط

بیت بازی

طاق ماضی میں ھیں رکھی یادیں
جن پہ کچھ گرد بھی جمی دیکھی

بیت بازی

یہ وقت بھی آنا تھا ہمی غم طلبوں پر
اب تجھ سے بچھڑنے کی دعائیں ہیں لبوں پر

بیت بازی

ریزہ ریزہ سمیٹا ہے میں نے
اپنے اندر اک ٹوٹا ہوا شخص

بیت بازی

صاحب! کیا لائقِ ستم بھی نہیں رھا میں
پتھر بھی گھر میں آئے زمانہ گزر گیا

بیت بازی

اس میں قسمت کی خطا ہے نہ زمانے کا قصور
غم تو انسان کے جینے کی سزا ہوتے ہیں

بیت بازی

نجانے کون دعاؤں میں یاد کرتا ہے
میں ڈوبتا ہوں، سمندر اچھال دیتا ہے

بیت بازی

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

بیت بازی

آج اس نے میرے زخموں پہ چھڑکنے کے لیے
زہر بھی لا کے ملایا  ہے نمکدانوں میں

بیت بازی

نہ کچھ رہا پاس اپنے تو سنبھال کے رکھی اک تنہائی
یہ وہ سلطنت ہے جسکے باشاہ بھی ہم، فقیر بھی ہم

بیت بازی

مجھ کو فرصت ہی نہ ملی خود اپنے آپ سے
روٹھنے والوں مجھے اب یاد کم آیا کرو

بیت بازی

وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب
تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے

بیت بازی

یہ کہتا ہے بدلے ہوئے موسم کا اشارہ
یہ زندگی اپنی بھی ہو جائے گی سبوتاژ

بیت بازی

ژولیدہ منہ اکھڑی اکھڑی سانسیں بکھرا بکھرا کاجل
شب کا سارا حال کہے ہے اس بستر کی سلوٹ

بیت بازی

ٹھیک ہی کہتا تھا میرے مقدر کا ستارہ
تو محبت کرے گا تو میں گردش کرونگا

بیت بازی

اے صبا ڈھونڈ رہا تھا تجھے گلشن گلشن
تو ملی رقص کناں کوچۂ دلدار کے پاس

بیت بازی

سوچ ہی سوچ میں کبھی کبھی لگتا ہے تو
آنکھ سے نکلا اور ہوا دیوار میں گم

بیت بازی

مجھ سے بچھڑ کے اسکا تکبر بکھر گیا فرازؔ
اوروں سے مل رھا ہے وہ بڑی عاجزی کیساتھ

بیت بازی

ہم کو یاں دربدر پھرایا یار نے
لامکاں میں گھر بنایا یار نے
آپ اپنے دیکھنے کے واسطے
ہم کو آئینہ بنایا یار نے

بیت بازی

یوسفِ مصر تمنا تیرے جلوؤں کے نثار
میری بیداریوں کو خوابِ زلیخا نہ بنا

بیت بازی

اس نے بھیجا نہ رقعہ ایک اور ہم
کئی روانہ کئے اسکو نامہ ہائے یاژ

بیت بازی

ژولیدگی مجھے بھاہ گئی مجھے شعر کہنا سکھا گئی
تیری یار کی وہ حسیں ضیا میرے دل کو ہی نہ ملی فقط

بیت بازی

طبیعت رفتہ رفتہ غم کی خوگر ہوتی جاتی ہے
جفا کم کر، جفا اب روح پرور ہوتی جاتی ہے

بیت بازی

یہ ناخنون خراش میں بگڑی کہ کیا کہوں
اک دم ہوا جو عقدائے بندِ قبا سے ربط

بیت بازی

طرزِ ادائیگی کہیں معنی نہ بدل دے
آنکھیں ملا کر بات کرو کان میں نہیں

بیت بازی

نہ گنواؤ ناوِکِ نیم کش، دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹا دیا

بیت بازی

آج تو وہ بھی کچھ خاموش سا تھا
میں نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی

بیت بازی

یہ غلط ہے کہ نہیں بولتا وہ یار غلط
مجھ سے ہر بات میں کہتا ہے وہ سو بار غلط

بیت بازی

طلسمِ رنگ و بو تھا ٹوٹنے تک
ٹھکانہ پھر نہ تھا گل کا نہ دل کا

بیت بازی

اگرچہ کوئے ستم میں ہم آس پاس رہے
میں انکی اور وہ میری پکار سن نہ سکے

بیت بازی

یہ تمنا ہے بندگی تیری
اس قدر ہو کہ جسقدر ہے شرط

بیت بازی

طوافِ کعبہ میں کیا جب پیرِ حرم نے سوال
کس طرف سجدہ کروں؟ آواز آئی سوئے دوست

بیت بازی

تجھ سے پہلے جو تمنا تھی وہی ہے اب تک
تجھ کو پا کر بھی کسی شے کی کمی ہے اب تک

بیت بازی

کب میرا نشیمن اھلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

بیت بازی

ناوِک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہونگے
نیم بسمل کئی ہونگے کئی بے جاں ہونگے

بیت بازی

یہ بہار کی سبھی رونقیں میرے دل اب جچتی نہیں
تو چلا گیا تو خزاں کو میں نے اپنا بنا لیا فقط

بیت بازی

طوفانِ حوادث سے ڈراتا ہمیں کیا ہے
ہم لوگ تو اکثر تہہ گرداب رہے ہیں

بیت بازی

نہ تیرا خدا کوئی اور ہے نہ میرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو قسمتیں ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment