بزمِ سخن رومانٹک شاعری

تیرے دروازے پہ چلمن نہیں دیکھی جاتی

.غزل

تیرے دروازے پہ چلمن نہیں دیکھی جاتی
جانِ جاں ہم سے یہ الجھن نہیں دیکھی جاتی
رُخ پہ یہ زلف کی الجھن نہیں دیکھی جاتی
پھول کی گود میں ناگن نہیں دیکھی جاتی
بے حجابانہ ملو ہم سے یہ پردہ کیسا
بند ڈولی میں سہاگن نہیں دیکھی جاتی
جام میں ہو تو نظر آئے گلابی جوڑا
ہم سے بوتل میں یہ دلہن نہیں دیکھی جاتی
گھر بنائیں کسی صحرا میں محبت کے لیے
شہر والوں سے یہ جوگن نہیں دیکھی جاتی
ہم نظر باز ہیں دکھلا ہمیں دیوی کا جمال
مورتی ہم سے برہمن نہیں دیکھی جاتی
اے فناؔ کہ دے ہوا سے کہ اڑا لے جائے
ہم سے یہ خاکِ نشیمن نہیں دیکھی جاتی

.فناؔ

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment