بن کے تصویرِ غم
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں

بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں

.غزل

بن کے تصویرِ غم رہ گئے ہیں
کھوئے کھوئے سے ہم رہ گئے ہیں
بانٹ لی سب نے آپس میں خوشیاں
میرے حصے میں غم رہ گئے ہیں
اب نہ اُٹھنا سرہانے سے میرے
اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں
قافلہ چل کے منزل پہ پہنچا
ٹھہرو ٹھہرو میں ہم رہ گئے
اے صبا ایک زحمت ذرا پھر
اُن کی زلفوں میں خم رہ گئے ہیں
دیکھ کر اُن کے منگتوں کی غیرت
دھنگ اہلِ کرم رہ گئے ہیں
اُن کی ستاریاں کچھ نہ پوچھو
آسیوں کے بھرم رہ گئے ہیں
کائناتِ جفا و وفا میں
ایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں
آج ساقی پلا شیخ کو بھی
ایک یہ محترم رہ گئے ہیں
اللہ اللہ یہ کس کی گلی ہے
اُٹھتے اُٹھتے قدم رہ گئے ہیں

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment