دردِ دل کا اب
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

دردِ دل کا اب نیا انداز ہونا چاھیے

دردِ دل کا اب نیا انداز ہونا چاھیے

.غزل

دردِ دل کا اب نیا انداز ہونا چاہیے

شہر سارا گوش بر آواز ہونا چاہیے

دوستو! اب کے قفس اپنا مقدر ہی سہی

دل میں کچھ تو جذبہ پرواز ہونا چاہیے

دامنِ کوہسار میں خاموش ندیا کی طرح

حسن کے نغموں کو بے آواز ہونا چاہیے

وقت کے ساحل پر اک بیجان پرندہ گر پڑا

اب نئے عنوان کا آغاز ہونا چاہیے

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment