سنگ رہنے کی کھائی تھی قسم ذرا آہستہ چل
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

سنگ رہنے کی کھائی تھی قسم ذرا آہستہ چل

سنگ رہنے کی کھائی تھی قسم ذرا آہستہ چل

.غزل

سنگ رہنے کی کھائی تھی قسم ذرا آہستہ چل

آج کس سے کہیں اکیلے ہم ذرا آہستہ چل

وہ کرے اپنی تباہی کا گلہ کس کے ساتھ

جس کو اپنوں نے دئیے ہوں غم ذرا آہستہ چل

زندگی کی بھی تمنا نہ رہی تیرے بعد

راہ میں چھوڑ گیا آج صنم ذرا آہستہ چل

دل یہ کہتا ہے کہ پھر ہو گا ملن تیرے ساتھ

فاصلے رہ گئے بہت ہی کم ذرا آہستہ چل

.فناؔ

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment