بزمِ سخن گلدستۂ غزل

مرنے والا ہے بیمارِ حسرت

.غزل

مرنے والا ہے بیمارِحسرت ، اب کہا مان جا حسن والے

دیکھ آنکھوں میں تھوڑا سا دم ہےاب تو چہرے سے پردہ ہٹا لے

چین پائے تو کس طرح پائے دل سنبھالے تو کیسے سنبھالے

جس کا دل پڑ گیا ہو ستمگر تیری کافر اداؤں کے پالے

کوئی دیکھے تو کس کشمکش میں آج بیمارِ الفت ہے ان کا

آج ہی موت ہے آنے والی آج وہ بھی ہیں آنے والے

بعد مرنے کے میری لحد پر جانے کیا سوچ کے دل بھر آیا

آگئے اُن کی آنکھوں میں آنسو پھول جب میری تربت پہ ڈالے

پارسائی کا دعویٰ نہ کیجئے مجھ کو معلوم ہے شیخ صاحب

رات کو چھپ کے پیتے ہیں حضرت دن کو بنتے ہیں اللہ والے

(اگر آپ کو شاعر کا نام معلوم ہے تو کامنٹ میں درج کیجیے)

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment