نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
Qayamat Hain Zalim Ki Neechi Nighaein
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

.غزل

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے

کرے کیا کوئی وہ جو آئیں یکایک
نگاہوں کو روکے یا دل کو سنبھالے؟

چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے
غریبوں کے در پہ خطا پھونک ڈالے

قیامت ہے ظالم کی نیچی نگاہیں
خدا جانے کیا ہو جو نظریں اٹھا لے

کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کہہ دیں
خدا کے لیےا ب تو سر کو اٹھالے

تمہیں بندہ پرور ہم ہی جانتے ہیں
بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے

بس اتنی سے دوری یہ میں ہوں یہ منزل
کہاں آکے پھوٹے ہیں بانہوں کے چھالے

قمر میں ہوں مختار تنظیمِ شب کا
نہ میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے

قمرجلالوی

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment