بزمِ سخن گلدستۂ غزل

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

.غزل

مار ہی ڈال مجھے چشمٖ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

اک نظر دیکھ لوں آ جاؤ قضا سے پہلے

تم سے ملنے کی تمنا ہے خدا سے پہلے

حشر کے روز میں پوچھوں گا خدا سے پہلے

تو نے روکا نہیں کیوں مجھ کو خطا سے پہلے

اے میری موت ٹھہر ان کو آنے دے

زہر کا جام نہ دے مجھ کو دوا سے پہلے

ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے زلف دوتا تک مومنؔ

ہتھکڑی ڈال دی ظالم نے خطا سے پہلے

مومنؔ

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment