بزمِ سخن گلدستۂ غزل

دلِ وحشی کی یہ حسرت بھی نکالی جائے

دلِ وحشی کی یہ حسرت بھی نکالی جائے
چاندنی جتنی بھی ممکن ہو چرالی جائے
یہ سمندر بھی تو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں
اِس کے سینے سے اگر لہر اٹھالی جائے
ہم سمجھتے ہیں محبت کے تقاضے لیکن
کیسے اُس در پہ کوئی بن کے سوالی جائے
یہ جو سودا ہے یہ مہنگا تو نہیں ہے ہرگز
سر کے بدلے میں جو دستار بچالی جائے
میں نے دیکھا ہے کہ وہ خود ہی بکھر جاتا ہے
سعدؔ جب پھول سے خوشبو نہ سنبھالی جائے

شاعر: سعدؔاللہ شاہ

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment