بزمِ سخن گلدستۂ غزل

کیا جانئیے کیوں اداس تھی وہ

کیا جانیے کیوں اُداس تھی وہ
کب اتنی ادا شناس تھی وہ
ہر خواب سے بے طرح ہراساں
ہر خواب کے آس پاس تھی وہ
سرشاریِ شوق و بے نیازی
ہر رنگ میں خوش لباس تھی وہ
پیروں میں ہزار بیڑیاں تھیں
اور سرد و سمن کی آس تھی وہ
جیسے شبِ ہجر کی سحر ہو
کچھ ایسی ہی بے قیاس تھی وہ
چھیڑی تھی اداؔ نے آپ بیتی
یوں جیسے خود اپنے پاس تھی وہ

شاعرہ: اداؔجعفری

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment