بزمِ سخن گلدستۂ غزل

یوں جنوں پر منحصر ہو جاؤں

یوں جنوں پر منحصر ہو جاؤں گا
ایک تپتی دوپہر ہو جاؤں گا
آندھیوں کی گر یہی حالت رہی
صبح تک میں منتشر ہو جاؤں گا
مجھ سے وہ ملنے کا وعدہ تو کریں
حشر تک میں منتظر ہو جاؤں گا
پی کے تیرے پیار کا آبِ حیات
دیکھنا، اک دن حضر ہو جاؤں گا
چارہ گر امیرا کہیں جانے کو ہے
میں مریضِ رنج پھر ہو جاؤں گا
فن اگر اظہار کا طالب ہوا
میں بھی فاتح ؔمشتہر ہو جاؤں گا

شاعر: ظہور احمد فاتحؔ

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment