بزمِ سخن گلدستۂ غزل

یہ کیا ستم ظریفی فطرت ہے آج کل

یہ کیا ستم ظریفئ فطرت ہے آج کل
بیگانگی شریک محبت ہے آج کل
غم ہے کہ ایک تلخ حقیقت ہے آج کل
دل ہے کہ سوگوار محبت ہے آج کل
تنہائی فراق سے گھبرا رہا ہوں میں
میرے لیے سکوں بھی قیامت ہے آج کل
ہر سانس ترجمانِ غم دل ہے اِن دنوں
ہر آہ پردہ دارِ حکایت ہے آج کل
میری وفا ہی میرے لیے قہر بن گئی
اپنی جفا پہ اُن کو ندامت ہے آج کل
پھر چاہتا ہوں اک الم تازہ تر شکیلؔ
پھر دل کو جستجوئے مسرت ہے آج کل

شاعرہ: شکیلؔ بدایونی

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment