بزمِ سخن نظم

شام سمے ایک اونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں

شام سمے ایک اونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں

غزل

شام سمے ایک اُونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں
چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند
انشأ جی اِن چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے
ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند
ہر ایک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر ایک چاند کا اپنا رُوپ
لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند؟
دَرد کی ٹیس تو اُٹھتی تھی، پر اِتنی بھی بھرپور کبھی؟
آج سے پہلے کب اُترا تھا دِل میں اتنا گہرا چاند
ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے اندھیرے پائے
یہ بھی چاند کا سپنا ہو گا، کیسا چاند؟ کہاں کا چاند؟
انشأ جی دنیا والوں میں بے ساتھی بے دوست رہے
جیسا تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند اکیلا چاند
آنکھوں میں بھی چتون میں بھی چاند ہی چاند جھلکتے ہیں
چاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاند
انشأ جی یہ اور نگر ہے، اِس بستی کی ریت یہی ہے
سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند
دُکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اِس کے دم سے دیکھ لیا
ہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبرا چاند
ہم نے تو دونو کو دیکھا ہے، دونو ہی بیدرد کھٹور
دھرتی والا، انبر والا، پہلا چاند اور دُوجا چاند
چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے؟
چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے اے مرے اچھے انشأ چاند

شاعر: ابنِ انشا

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment