بیت بازی حصہ دوم
بزمِ سخن بیت بازی

بیت بازی حصہ دوم

بیت بازی حصہ دوم

بیت بازی

میری خوبی پہ رہیتے ہیں یہاں اہلِ زباں خاموش
میرے عیبوں پہ چرچا ہو تو گونگے بول پڑتے ہیں

بیت بازی

نہ کر محبت میں مجھے آزمانے کی ضد
پانی میں پتھر کبھی تیرا نہیں کرتے

بیت بازی

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی سی کسی کو مگر جدا نہ کرے
سُنا ہے اُسکو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے

بیت بازی

یادوں کی بوندوں میں جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں
کتنی سوندھی لگتی ہے ماضی کی رسوائی بھی

بیت بازی

یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اس کو
مرے خدا مرے دکھ سے نکال دے اس کو

بیت بازی

وہ زندگی ہو کہ دنیا فرازؔ کیا کیجیے
کہ جس سے عشق کرو بیوفا نکلتی ہے

بیت بازی

یہ کون پھر سے انہی راستوں میں چھوڑ گیا
ابھی ابھی تو عذابِ سفر سے نکلا تھا

بیت بازی

اپنا تو زمانے میں مخلص نہ کوئی مونس
دکھائیں کسے جا کر ٹوٹے ہوئے دل کو

بیت بازی

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

بیت بازی حصہ دوم

اب وہ باتیں نہ وہ راتیں نہ وہ ملاقاتیں
محفلیں خواب کی صورت ہوئی ویران کیا کیا

بیت بازی

اب تک ہے کوئی بات، مجھے حرف حرف یاد ہے
اب تک میں چن رھا ہوں، کسی گفتگو کے پھول

بیت بازی

اب تک ہے کوئی بات، مجھے حرف حرف یاد ہے
اب تک میں چن رھا ہوں، کسی گفتگو کے پھول

بیت بازی

لہروں سے کھیلنا تو ساگر کا شوق ہے
لگتی ہے چوٹ کیسے کنارے سے پوچھئے

بیت بازی

یاد ہیں عشق و محبت کے فسانے اب تک
نقش ہے دل پہ ہر اک بات تمہیں کیا معلوم

بیت بازی

مجھے بھی یاد رکھنا جب لکھو تاریخِ وفا ساغرؔ
کہ میں نے بھی لٹایا ہے محبت میں سکوں اپنا

بیت بازی

اب تو بس ایک ھی خواہش ہے کسی موڑ پر تم
ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ، سنبھالیں تم کو

بیت بازی

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

بیت بازی

یارب! کہیں سے بھیج دے سورج کا سائبان
بادل کی آنکھ ہے میرے کچے مکان پر

بیت بازی

راہ تکتے ہوئے جب تھک گئی آنکھین میری
پھر تجھے ڈھونڈنے میری آنکھ سے آنسو نکلے

بیت بازی

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

بیت بازی حصہ دوم

نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا
سو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بیکسی کا

بیت بازی

اشک بن کے جو مری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے جو پانی کے گھر میں رہتا ہے

بیت بازی

یہ شعر عجب استاد ہے یا دلبر حسن آباد سے ہے
یا ریختہ شاہ مرد سے ہے مقبول ہوا منظور ہوا

بیت بازی

اپنے ہر شعر میں ہے معنی تہ دار آتش
وہ سمجھتے ہیں جو کچھ فہم و ذکا رکھتے ہیں

بیت بازی

نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے خوب زور غزل میں مارا

بیت بازی

اے رگِ جاں کے مکین تو بھی کبھی غور سے سن
دل کی دھڑکن تیرے قدموں کی صدا لگتی ہے
گو دکھی دل کو بہت ہم نے بچایا پھر بھی
جس جگہ زخم ہو، واں چوٹ سدا لگتی ہے

بیت بازی

یہ کج روی نہ میری جان اختیار کرو
جو تم سے پیار کرے تم بھی اس سے پیار کرو
کہا جو میں نے دل بیقرار ہے میرا
تو ھنس کے کہنے لگے اور بیقرار کرو

بیت بازی

وہ اگر مل کے بچھڑتا تو کوئی بات بھی تھی
جس کو پایا ھی نہیں ہے اسے کھونا کیسا

بیت بازی

ان کے پیچھے نہ چلو ان کی تمنا نہ کرو
سائے پھر سائے ہیں ڈھل جائینگے کچھ دیر کے بعد

بیت بازی

دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے پر بغاوت نہیں کرتا

بیت بازی

اک شخص اس طرح میرے دل میں اتر گیا
جیسے وہ جانتا تھا میرے دل کے راستے

بیت بازی حصہ دوم

یوں تو ھیں بے شمار وفا کی نشانیاں
لیکن ہر ایک شے سے نرالے تمہارے خط

بیت بازی

طاقوں میں چراغوں کا دھواں جسم سا گیا ہے
اب ہم بھی نکلتے نہیں اجڑے ہوئے گھر سے

بیت بازی

یہ چمن زار، یہ جمنا کا کنارا، یہ محل
یہ منقش در و دیوار، یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لیکر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

بیت بازی

قبل اس کے پیش آئے تجھے دھوپ کا سفر
سائے کو اپنے ساتھ ملانے کی رسم ڈال

بیت بازی

لاکھ ہونٹوں پر تبسم کی کرن ہو رقصاں
درد پھر درد ہے چہرے سے نمایاں ہو گا

بیت بازی

اپنی باتوں سے مرے جی کو جلانے آؤ
تم بھی ناصح کی طرح مجھے ستانے آؤ

بیت بازی

واہ آتش کیا زباں رکھتا ہے کیفیت کیساتھ
سامعین ہوتے ہیں سن سن کے ترے اشعار مست

بیت بازی

تماشا دیکھ گورستان میں نیرنگ زمانہ کا
جو گل ہیں خندہ زن تو رو رہی ہے شمع مدفن پر

بیت بازی حصہ دوم

رات پھیلی ہے تیرے سرمئ آنچل کی طرح
چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرح

بیت بازی

حسن کی اصطلاح میں جبر کا نام عشق ہے
غم ہو مگر نہ ہو دل ہو مگر زباں نہ ہو

بیت بازی

وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بیخبر میری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا

بیت بازی

اب فرازؔ اپنے مسیحا سے بھی امید نہ رکھ
وہ تنگدل ہے اور تیرے زخم میں گہرائی بہت

بیت بازی

تقدیر کی تقدیر الٹ جائے گی ہمدم
اک ہاتھ جو میں نے کبھی تدبیر کا مارا

بیت بازی

اب ذوق طلب وجہِ جنوں ٹھیر گیا ہے
اب عرضِ وفا باعثِ رسوائی ہے، دیکھو

بیت بازی

وقت کا دریا بہا کر لے گیا دیوار و در
دیکھ اپنے آپ کو پہچان لے پتھر نہ بن

بیت بازی

نہ تو ملا ہے نہ خود ھی سے نبھ سکی اپنی
تو پھر یہ عمر کہاں ہم نے رائگاں کی ہے

بیت بازی حصہ دوم

شعرکی مقبولیت

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment