میرے دل سے تیرے دل تک
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

میرے دل سے تیرے دل تک

میرے دل سے تیرے دل تک

پھیل گیا جب آس کا گلشن، میرے دل سے تیرے دل تک
پھول کھلانے آئی دھڑکن، میرے دل سے تیرے دل تک

چھائی ہوئی تھی گھور اداسی، تیری میری روح تھی پیاسی
پیار پون تب سنکی سن سن، میرے دل سے تیرے دل تک

کپڑوں میں تھا جسم برھنہ، مشکل تھا جب شہر میں رہنا
جنگل کا تب پھیلا دامن، میرے دل سے تیرے دل تک

بھیڑ تو ہے رشتوں ناطوں کی، چھیڑ نہ بات ملاقاتوں کی
آج بھی ہے ایک بیگانہ پن، میرے دل سے تیرے دل تک

جہاں رہے نت پیار کی جھلمل، دور نہیں ہے اب وہ منزل
قدم قدم لیکن سو رہزن، میرے دل سے تیرے دل تک

کرے گا کیا لفظوں کا تیشہ، لڑتے ملیں قتیلؔ ہمیشہ
اک مُلا اور ایک برھمن، میرے دل سے تیرے دل تک

دیں ہم لاکھ قتیلؔ دلاسے، بن پانی کیا بہلیں پیاسے
برسے کاش کبھی کوئی ساون، میرے دل سے تیرے دل تک

شاعر: قتیل شفائی

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment