بزمِ سخن گلدستۂ غزل

گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا
گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

کہوں تو کس سے کہوں آکے اب سرِمنزل
سفر تمام ہوا، ہم سفر نہیں آیا

صبا نے فاش کیا رمزِ بوئے گیسوئے دوست
یہ جرم اہلِ تمنا کے سر نہیں آیا

پھر ایک خوابِ وفا بھر رہا ہوں آنکھوں میں
یہ رنگ ہجر کی شب جاگ کر نہیں آیا

کبھی یہ زعم کہ خود آگیا تو مل لیں گے
کبھی یہ فکر کہ وہ کیوں ادھر نہیں آیا

میں وہ مسافرِ دشتِ غمِ محبت ہوں
جو گھر پہنچ کے بھی سوچے کہ گھر نہیں آیا

مرے لہو کو، مری خاکِ ناگزیر کو دیکھ
یونہی سلیقۂ عرضِ ہنر نہیں آیا

فغاں کہ آئینہ و عکس میں بھی دنیا کو
رفاقتوں کا سلیقہ نظر نہیں آیا

مآلِ ضبطِ تمنا سحرؔ پہ کیا گزری
بہت دنوں سے وہ آشفتہ سر نہیں آیا

شاعر: سحر انصاری

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment