ہم بھلا کس کو یاد آئیں گے
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

ہم بھلا کس کو یاد آئیں گے

ہم بھلا کس کو یاد آئیں گے

ہم بھلا کس کو یاد آئیں گے
لوگ تم کو بھی بھول جائیں گے

ایک بار آزما لیا ہے تم کو
ایک بار اور آزمائیں گے

راستے میں نہ دیکھنا ہم کو
دیکھنے والے مسکرائیں گے

ناخدا کس لیے پریشاں ہے
بس یہی نا کہ ڈوب جائیں گے

پھر چلے ہو وہاں عدم صاحب
تم تو کہتے تھے اب نہ جائیں گے

شاعر: عبدالحمید عدمؔ

عبدالحمیدعدمؔ کا شمار ہلکی پھلکی زبان کے غزل گو شعرأ میں ہوتا ہے، سادہ الفاظ کیساتھ چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں کلام کرتے ہیں۔

انکی یہ غزل پانچ شعروں پر مشتمعل ہہے، جسکی زمین آئیں ہیں پر ہے۔ مطلع کا آغاز ہی ہم سے ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ بذاتِ خود بات کررہے ہیں، اور کسی سے براہِ راست مخاطب ہیں۔ اپنی محرومی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم کسے یاد آئیں گے؟ ساتھ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ لوگ تمہیں بھی بھول جائیں گے – یہ وہ ظاہری کیفیت ہے اس دنیا کی کہ کوئی کسی کو یاد ایک حد تک رکھتا ہے، پھر اسے بھول جاتا ہے۔ 

دوسرے اور تیسرے شعر میں آزمائش کی بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ راستے میں دیکھکر آنکھیں مت ملانا، لوگ شک کریں گے۔ چوتھے شعر میں ناقدین سے کہہ رہے ہیں تمہیں کیا پے؟ اگر ڈوبنا مقدر ہے تو ڈوب جائیں گے۔ جبکہ مطلع میں خود کی سرزنش کر رہے ہیں کہ تم تو کہتے تھے وہاں نہیں جاؤنگا، پھر جا رہے ہو؟؟؟ – لگتا ہے عدم کی “وہاں” سے اچھی خاصی خاطر تواضع ہوئی ہے ہاہا۔

 

 

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment