یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھر بھی

کہوں یہ کیسے اِدھر دیکھ یا نہ دیکھ اُدھر
کہ درد درد ہے پھر بھی، نظر نظر ہے پھر بھی

جھپک رہی ہیں زمان و مکاں کی بھی آنکھیں
مگر ہے قافلہ آمادۂ سفر پھر بھی

شب فراق سے آگے ہے آج میری نظر
کہ کٹ ہی جائے گی یہ شام بے سحر پھر بھی

پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھا
وہ کوچہ روکشِ جنت ہو، گھر ہے گھر پھر بھی

خراب ہو کے بھی سوچا کیے ترے مہجور
یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھر بھی

تری نگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے
اُتر گیا رگِ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی

اگرچہ بے خودئ عشق کو زمانہ ہوا
فراق کرتی رہی کام وہ نظر پھر بھی

شاعر: فراق گورکھپوری

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment