اردوشعراویکی

سراج الدین علی خان آرزو

سراج الدین علی خان آرزو

اردو شعرا – ویکی

سراج الدین علیخان آرزوؔ

عرصہ: 1687 تا 1756

سراج الدین علی خان آرزو  کا اردو زبان پر ایک بہت گہرا اثر ہے۔  آرزو لسانیات کے بدلتے ہوئے تغیر پر بہت گہری نظر رکھتے تھے۔ بدلتے ہوئے الفاظ اور انکے بدلتے ہوئے معنوں سے بخوبی واقف ہی نہیں تھے۔ بلکہ انہوں نے اپنی علمی کاوشوں میں اردو زبان بتدریج ارتقا میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

آرزو نے اپنی کتابوں میں لکھا کہ وہ ہندوی یا ہندوستانی میں لکھا کرتے تھے۔ جو درحقیقت آج کی اردو ہے۔آرزو ہی نے ہنددوستانی کی لسانی تحریک کی بنیاد رکھی جو آج نکھر کر اردو بن چکی ہے۔

آرزو دھلی کے اکثر شعرأ کیطرح فارسی میں زیادہ تر شاعری کرتے تھے۔ مگر اردو میں بھی بہت کلام چھوڑا ہے۔ وہ مرزا محمدرفیع سوداؔ، میر تقی میرؔ، میرزا مظہرجانِ جاناں اور نجم الدین شاہ مبارک ابروؔ کے استاد ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ آرزو عربی اور سنسکرت میں بھی ماہر تھے۔

آرزوؔ اکثر اپنے دولت خانے پر مشاعرہ منعقد کرواتے جس میں میر تقی میر اور دوسرے شاگرد بھی موجود ہوتے۔

آرزو کی پیدائش آگرہ کی ہے اور شیخ حصام الدین کے بیٹے ہیں، جو شہنشاہ اورنگزیب کی فوج کے ایک اعلیٰ آفیسر تھے۔  1754 میں آرزو لکھنؤ چلے گئے  اور کچھ عرصہ ایودھیا میں گزارنے کے بعد لکھنؤ میں 1756 کو وفات پائی۔

سراج الدین علی خان آرزو کی کچھ کتابیں:

– سراج الغت
– چراغِ ھدایت
– دیوانِ اثر شیرازی
– محبلط عظمیٰ
– معیارالافکار
– پیامِ خروش
– جوش و خروش
– مہر و ماہ
– عبرت فسانہ
– گکرانِ کیال

مسعودؔ

سراج الدین علی خان

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment