اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

 

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی تھی
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ
منزلِ عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ
مجھ کو اپنے دلِ ناکام پہ رونا آیا

شاعر: شکیلؔ بدایونی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

شکیل بدایونی کی یہ غزل میرے دل کی گہرائیوں کے راگوں کو چھیڑتی ہے، اس غزل میں محبت کی ناکامی کی جو تصویر کھینچی گئی ہے اسے دل والے ہی محسوس کر سکتے ہیں، منزلِ عشق میں ہر گام پہ رونا آیا۔۔۔ اس حسین غزل کو بیگم اختر نے آج سے کئی دہائیاں پہلے گایا ہے اور کیا خوب گایا ہے، آئیے سنتے ہیں

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment