عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

صوفیانہ کلام

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہَو سَو ہَو
عیش و نشاطِ زندگی چھوڑ دیا جو ہَو سَو ہَو
عقل کے مدرسے سے اُٹھ، عشق کے میکدے میں آ
جامِ فنا و بیخودی اب تو پیا جو ہَو سَو ہَو
ہجر کی جو مصیبتیں، عرض کی اُسکے رُو بَرو
ناز و ادا سے مسکرا، کہنے لگا جو ہَو سَو ہَو
ہستی کے اِس سراب میں رات کی رات بس رہے
صبح عدم ہوا نمود پاؤں اُٹھا جو ہَو سَو ہَو
جامِ فنا و بیخودی 

شاعر: حضرت نیاز احمد شاہ 

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

عشق! صبروسکوں کا دشمن! عشق عیش و عشرت کا دشمن! عشق! رات دن بیقرار ی کا نام،

جب عشق کی آگ لگتی ہے تو فرہاد اپنے سامنے پہاڑ بھی نہیں دیکھتا اور اس سے بھی دودھ کا چشمہ نکالنے کے لیے تیشہ اٹھا لیتا ہے،

عشق کی آگ وہ آگ  ہے جس میں دل تپ کر خالص ہوتا ہے، وہ عشق چاہے مجازی ہو کہ حقیقی! عشق پہچان ہے چاہیے محبوب کی ہو یا خدا کی۔

جب اسکو کہا میں نے کہ دل ہجر کی مصیبتوں سے دوچار ہے تو وہ ظالم مسکرایا اور بولا: اب تو پیا جو ہو سو ہو۔۔۔

یہ وہ آگ تھی جس کی جلن نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا، سکھ چین نیند خواب عیش عشرت ہنسی مذاق – اب تو جو ہو سو ہو۔۔۔

آیئے عابدہ پروین سے سنتے ہیں۔۔۔

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment