دل پہ زخم کھاتے - dil pe zakhm khate
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں

غزل

دِل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے اُن کو پیار کرتے ہیں
اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا

جب وہ اجنبی بن کر پاس سے گزرتے ہیں
اُن کی انجمن بھی ہے دار کی رسن بھی ہے
دیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھہرتے ہیں
اُن کے اِک تغافل سے ٹوٹتے ہیں دِل کتنے
اُن کی اک توجہ سے کتنے زخم بھرتے ہیں
وہ دیارِ جاناں ہو یا جوارِ میخانہ
گردشیں ٹھہرتی ہیں ہم جہاں ٹھہرتے ہیں
جو پلے ہوں ظلمت میں کیا سحر کو پہچانیں
تیرگی کے شہدائی روشنی سے ڈرتے ہیں
لاکھ وہ گریزاں ہو لاکھ دشمنِ جان ہوں
دِل کو کیا کریں صاحب ہم انہیں پہ مرتے ہیں

شاعر: ?

غالب نے کہا تھا، خاک ہو جائیں ہم تم کو خبر ہونے تک، صاحب اب تو تغافل برتو یا دامن بچاو، نظریں چراؤ یا لن ترانی پہ آجاؤ ، دل تم پر مر مٹا ہے اب اس پر ستم ہوں یا جفائیں، جاں سے گزریں یا اپنا بنالو، ہم تو تم سے پیار کرتے ہیں شاید یہی ہماری وفاؤں کا جرم ہے، ہمیں کیا کہ دار کی رسن ہو یا محفلِ یار ہمیں تو پتنگوں سے غرض ہے کہ وہ کس سمت جاتے ہیں، تم تو ٹھہرے صنم اور صنموں کے ایک تغافل سے کیا کیا حسین دل ٹوٹ جاتے ہیں یہ تم کیا جانو؟

فتح علیخان اسکو  یوں بیان کرتے ہیں:

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment