اب کیا سوچے کیا
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

اب کیا سوچے کیا ہونا ہے جو ہو گا اچھا ہو گا

اب کیا سوچے کیا ہونا ہے جو ہو گا اچھا ہو گا

اب کیا سوچے کیا ہونا ہے جو ہو گا اچھا ہوگا
پہلے سوچا ہوتا پاگل، اب رونے سے کیا ہوگا
یار سے غم کہہ کر تو خوش ہو لیکن تم یہ کیا جانو
تم دِل کا رونا روتے تھے وہ دِل میں ہنستا ہو گا
آج کسی نے دِل توڑا تو ہم کو جیسے دھیان آیا
جس کا دِل ہم نے توڑا تھا وہ جانے کیسا ہو گا
میرے کچھ پل مجھ کو دیدو باقی سارے دِن لوگو
تم جیسا جیسا کہتے ہو سب ویسا ویسا ہو گیا

شاعر: ؟

مجھے صرف وہ چند ایک لمحے دیدو جنہیں میں اپنا کہہ سکو، مجھے نہیں طلب سازوساماں کی نہ ہی ہوس ہے زمین و آسمان کی، مجھے صرف چند ایک پل چاہیے کیونکہ میں یہ سمجھتا رہا ہوں کہ میں جس کو اپنے دکھی دل کا حال بتا کر اپنے لیے کچھ حوصلہ حاصل کرتا تھا، کچھ ہمت بندھائی کی امید رکھتا تھا وہ تو میری کہانی سن کر دل ہی دل میں ہنستا رہا ہے، آج مجھے احساس ہوا کہ کوئی اپنا نہیں، کوئی کسی کے دکھ درد کو سن کو ملال نہیں کرتا بلکہ لوگ دوسروں کے دکھ درد پر ہنستے ہیں، میں پاگل تھا، دیوانہ تھا مگر اس دیوانگی میں یہ کیوں بھول گیا کہ آج مجھے چوٹ لگی ہے تو میں تڑپ اٹھا ہوں، کبھی میں نے اسکی نسبت سوچا ہے جسکا دل میں نے دکھایا تھا، وہ کس حال میں ہو گا؟

نصرت فتح علیخان کا خوبصورت انداز ۔۔۔

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment