داغِ دل ہم کو - daagh e dil hum ko
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے

غزل

داغِ دِل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گمان
ہم یہ کیسا قدم اُٹھانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اُٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر ہی اُڑتے نشانے لگے

شاعر: ؟

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے

ایک عجب سے وہم وہ گمان میں زندگی پھنس چکی ہے کہ اپنا ہر اٹھایا ہوا قدم غیر یقینی سا لگنے لگا ہے، اپنے پاس کی شے اچھی لگنے لگی ہیں، جہاں کبھی اپنا مقام بنانے میں صدیاں لگیں وہاں ایک پل سے ایسے اٹھ کھڑے ہوئے کہ گویا جانتے ہی نہیں، یہ ہمارے دل کے داغ جلے ہیں کہ لوگوں کے دئیے جل اٹھے؟ ہمارے گھر کے چراغ سے کتنے گھروں میں اجالا ہو رہا ہے،  پر کیا کریں مسعود صاحب قسمت سے مفر ہو سکتا ہے؟ جہاں تیر لگنا ہو وہاں خود بخود قدم لے جاتے ہیں۔۔۔

فریدہ خانم کی زبانی۔۔

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment