مجھے بیخودی یہ تو - Mujhe bekhudi
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

مجھے بیخودی یہ تو نے بھلی چاشنی چکھائی

مجھے بیخودی یہ تو نے بھلی چاشنی چکھائی

پیش لفظ

حیرت مارازِ ہر دو جہاں بی نیاز کرد
ایں خواب کارِ دولتِ بیدارِ می کنند
کھلی جب کہ چشمِ دلِ حزیں
تو وہ نم رھا نہ تری رہی
ہوئی حیرت ایسی کچھ آنکھ پر
بے اثر کی بے اثری رہی
پڑی گوشِ جاں میں عجب ندا
کہ جگر نہ بے جگری رہی

خبرِ تخیرِ عشق سن نہ جنون رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ میں رھا جو رہی سو بے خبری رہی

کلام

مجھے بیخودی یہ تو نے بھلی چاشنی چکھائی
کسی آرزو کی دِل میں نہیں اب رہی سمائی
نہ حضر ہے، نے خطر ہے، نہ رجا ہے، نے دعا ہے
نہ خیالِ بندگی ہے، نہ تمنائے خدائی
نہ مقامِ گفتگو ہے، نہ محلِ جستجو ہے
نہ وہاں حواس پہنچے، نہ خرد کو ہے رسائی
نہ مکیں ہے نے مکاں ہے نہ زمین ہے نے زباں ہے
دِلِ بے نوا نے میرے وہاں چھاؤنی ہے چھائی
نہ وصال ہے، نہ ہجراں، نہ سرور ہے، نہ غم ہے
جسے کہیے خوابِ غفلت سو وہ نیند مجھ کو آئی

شاعر: حضرت نیاز احمد شاہ

میرا دل ایک ایسے مقام پر ہے کہ جہاں مجھے دنیا کی کسی رونق سے کوئی غرض نہیں، نہ مجھے ملاپ کی خوشی ہے نہ بچھڑنے کا غم، نہ کوئی آرزو باقی رہی ہے نہ کوئی حسرت نہ طلب، مجھ سے گفتگو کرو تو  لاحاصل نہ کرو توبہتر، میں جس مقام پر ہوں وہاں میرے حواس ایسے جگہ ہیں کہ مرے خرد کو بھی خبر نہیں، مجھے نہ مکان کی پروا رہی نہ زمان کی مجھ پر عشقِ حقیقی کی ایک نیند چھا گئی ہے کہ جہاں ہجر ہو وصال، سرور و غم کی کوئی پروا نہیں۔۔ میرے دلِ ناکردہ کار نے ایک ایسی جگہ چھاؤنی چھا لی ہے جہاں اسے کسی سود و زیاں کی پروا نہیں۔۔۔ سنیے عابدہ پروین کیا کہتی ہیں۔۔۔

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment