زیرِ لب یہ جو تبسم کا دیا رکھا ہے
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

زیرِ لب یہ جو تبسم کا دیا رکھا ہے

[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#b3fcfc”]
[mks_separator style=”solid” height=”4″]

زیرِ لب یہ جو تبسم کا دیا رکھا ہے
ہے کوئی بات جسے تم نے چھپا رکھا ہے

چند بے ربط سے صفحوں میں کتابِ جاں کے
اک نشانی کی طرح عہدِ وفا رکھا ہے

ایک ہی شکل نظر آتی ہے جاگے سوئے
تم نے جادو سا کوئی مجھ پہ چلا رکھا ہے

یہ جو اک خواب ہے آنکھوں میں نہاں مت پوچھ
کس طرح ہم نے زمانے سے بچا رکھا ہے

کیسے خوشبو کو بکھر جانے سے روکے کوئی
رزقِ غنچہ اس گٹھڑی میں بندھا رکھا ہے

کب سے احباب جسے حلقہ کیے بیٹھے تھے
وہ چراغ آج سرِ راہِ ہوا رکھا ہے

یاد بھی آتا نہیں اب کہ گلے تھے کیا کیا
سب کو اس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے

دل میں خوشبو کی طرح پھرتی ہیں یادیں امجدؔ
ہم نے اس دشت کو گلزار بنا رکھا ہے

شاعر: امجد اسلام امجدؔ

[/nk_awb]

زیرِ لب یہ جو تبسم کا دیا رکھا ہے

یہ جو تم نے چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ قائم کر رکھی ہے، کیا بات ہے کس غم کو چھپا رہے ہو؟  اپنے عہدو پیمان بھی نبھائے تو کچھ اس طرح جیسے بے جان کتابوں کے بے جان صفحے، کوئی تو وجہ ہے کوئی تو بات ہے کہ ہم جس طرف دیکھیں تم ہی تم نظر آتے ہو، یہ کیا جادو ہے جس سے آنکھوں میں ایک خواب چھپا ہے جسے دنیا سے چھپایا ہے، کبھی خوشبو کے سفر کو بھی کوئی روک سکا ہے؟ اس میں غنچوں کا رزق ہے، آآآآآہ ایک وقت تھا جب ہمارے گرد ہمارے دوست رواں دواں تھے آج اسی لو کو ہوا کے دوش پر چھوڑ دیا ہے ، دن کی روشنی میں جب سب لوگ ہمارے گرد تھے رات کی سیاھی میں گم سم ہو گئے، کچھ یہی بتا دو کہ کیا گلہ تھا کیا شکوہ تھا ہمیں بھی بتاؤ کیوں سب کو باتوں میں لگا رکھا ہے؟ یادیں دل کی گہرائیوں میں گردش کرتی ہیں اور ان سے ہم نے اپنے دشتِ دل کو گلستان میں ڈھال دیا ہے
[mks_separator style=”solid” height=”1″]

اس غزل کی ڈیزائننگ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment