بیاض دل حصہ اول
اشعار بزمِ سخن

بیاض دل حصہ اول

بیاض دل حصہ اول

بیاض دل حصہ اول

وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یاربّ
مرے دونوں پہلوؤں میں دلؐ بیقرار ہوتا

بیاضِ دل

جانے کیوں روتے ہیں دل کھول کے تنہائی میں
لوگ ہنس مکھ سے یہ اوروں کو ہنسانے والے

بیاضِ دل

کسی کا  کیا جو قدموں میں جبینِ بندگی رکھدی
ہماری چیز تھی ہم نے جہاں چاھی وہاں رکھدی
جو دل مانگا تو وہ بولے کہ ٹھہرو یاد کرنے دو
ذرا سی چیز تھی ہم نے خدا جانے کہاں رکھدی

بیاضِ دل

ہمدردیوں کی بھیک سی دینے لگے ہیں لوگ
یوں اپنے دل کا حال نہ سب سے کہا کرو

بیاض دل حصہ اول

چوٹ لگ جائے تو کیا ہوتی ہے دل کی حالت
ایک آئینے کو پتھر پہ گرا ہوا دیکھو

بیاضِ دل

یوں تو پتھر کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ اسے دل سے تراشا جائے

بیاضِ دل

جان و دل بیچ کے احسان اتارے اسکے
خود کو ناپید کیا نقش ابھارے اسکے
وہ تو یکتا تھا مگر عالمِ تنہائی میں
میں نے گھبرا کے کئی نام پکارے اسکے

بیاضِ دل

رُخ پہ نشانِ کرب نہ آنکھ میں اشکِ غم
ہر دکھ سمو لیا ہے دلِ تار تار میں

بیاضِ دل

میں حیراں ہوں زمانے کی ادا پر
صلہ میری وفا کا زخمِ دل ہے

بیاض دل حصہ اول

ٹوٹا ہے دل کسی کا اس آہستگی کے ساتھ
پہنچے صدا نہ جس کی بہ گوشِ شکستِ رنگ

بیاضِ دل

نہ ہو پاسِ وفا جس کو، نہ ہو خوفِ خدا جس کو
اگر ایسا کوئی دل ہے تو وہ دل آپ کا دل ہے

بیاضِ دل

بغیر ان کے اندھیرا بہت تھا محفلِ دل میں
وہ آ گئے ہیں تو زخموں سے لو نکلنے لگی

بیاضِ دل

سر اٹھاتا ہے کوئی غم تو میں کرتا نہیں غم
دل سمندر ہے اسے دل میں ڈبو دیتا ہوں

بیاضِ دل

پھولوں میں نہاں آپ ستاروں سے عیاں آپ
دیکھے کوئی دل سے تو یہاں آپ وہاں آپ

بیاض دل حصہ اول

دل تو تمہی نے ہاتھ میں لے کر مسل دیا
ہم سادہ دل تمہی کو پکارے چلے گئے

بیاضِ دل

جو داغ ہے اک شمع ہے جو زخم ہے اک پھول
دیکھو تو کبھی انجمنِ دل سے گزر کے

بیاضِ دل

قدم رکھ نہ اپنا مرے دل سے باہر
کہا ماں میرا یہ گھر دلنشیں ہے

بیاضِ دل

دل کا دامانِ دریدہ نہیں سلتا تو میاں
بھاڑ میں جائے اگر چاک ردا بھی ہو جائے

بیاضِ دل

دل ِ آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے
اپنی ہر رات ستاروں سے بھری رکھتا ہے

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment