کیسی ہے یہ تنہائی
اشعار بزمِ سخن

کیسی ہے یہ تنہائی

کیسی ہے یہ تنہائی

یسی ہے یہ تنہائی

[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچیں گے میری شبِ تنہائی کو

[/box]


[box title=”۔کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

روتے ہیں دل کے زخم تو ہنستا نہیں کوئی
اتنا تو فائدہ مجھے تنہائیوں سے ہے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

شہر کی بھیڑ میں کھلتے ہیں کہاں اس کے نقوش
آؤ تنہائی میں سوچیں کہ وہ کیا لگتا ہے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

سناٹوں کو چوم رہی ہیں آوازیں شہنائی کی
چپکے چپکے کاٹ رہی ہے آگ مجھے تنہائی کی

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تنہائی میں جو بات بھی کرتا نہیں پوری
تقریب میں مل جائے تو بیباک بہت ہے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تنہائیوں سے خود کو بچانا پڑا مجھے
یادوں کا ایک شہر بسانا پڑا مجھے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

میں وہ گلشن گزیدہ ہوں کہ تنہائی کے موسم میں
نہیں ہوتے اگر کانٹے تو ڈستی ہے کلی مجھ کو

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

پل بھر کو مل کے اجرِ شناسائی دے گیا
اک شخص ساری عمر کی تنہائیدے گیا

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

اس کے ایماں پہ کیا ترکِ تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنہ تنہائی دے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

خود اپنی ذات سے ہیں شناسائیاں تو ہیں
صحرا میں ہمسفر مری تنہائیاں تو ہیں

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

ڈھونڈتی رہتی ہیں تخیل کی باہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تیری تنہائیبھی محفل کا سماں رکھتی ہے
آرزو یہ ہے کبھی تجھ کو بھی تنہا دیکھوں

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

وقتِ بد میں کون دیتا ہے کسی کا ساتھ رندؔ
یارِ صادق اک ملی دنیا میں تنہائی مجھے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

پھر وہی رات وہی ہم وہی تنہائی ہے
پھر ہر اک چوٹ محبت کی ابھر آئی ہے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

مری تنہائیوں سے آ کے عابدؔ کوئی تو پوچھے
کبھی جب چاندپورا ہو، سمندر چیختا کیوں ہے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

پھیلی تھیں بھرے شہر میں تنہائی کی باتیں
شاید کوئی دیوار کے پیچھے بھی کھڑا ہے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

اک آگ غمِ تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

پت جھڑ سا لگے گا مجھے تنہائی کا موسم
اب کے بھی گزر جائے گا رسوائی کا موسم

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے
یہ اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

قیامت ہے دلِ مہجور کا احساسِ تنہائی
اکیلے اب تو ہم اکثر بھری محفل میں رہتے ہیں

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

وہی میں ہوں، وہی ہے تیرے غم کی کارفرمائی
کبھی تنہائی میں محفل، کبھی محفل میں تنہائی

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

جان و دل بیچ کے احسان اتارے اسکے
خود کو ناپید کیا نقش ابھارے اسکے
وہ خود تو یکتا تھا مگر عالمِ تنہائی میں
میں نے گھبرا کے کئی نام پکارے اسکے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تنہائی میں لے جائیں گے سمجھائیں گے دل کو
پر مان بھی جائے گا یہ دعویٰ نہیں کرتے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

ہاں نہیں تیری رفاقت کی ضرورت مجھ کو
میری مونس، میری ہمدم، میری تنہائی ہے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

دل کو جب ڈسنے لگیں وحشت بھری تنہائیاں
ہم تیری یادوں کی اک محفل سجا کر رو دئیے

[/box]


[box title=”کیسی ہے یہ تنہائی۔” style=”bubbles” box_color=”#0c116c” title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تنہائی

تنہائیِ شب میں ہے خزیں کیا؟
انجم نہیں تیرے تیرے ہمنشیں کیا؟
یہ رفعتِ آسمانِ خاموش
خوابیدہ زمیں، جہانِ خاموش
یہ چاند، یہ دشت و در، یہ کہسار
فطرت ہے تمام نسترن زار
موتی خوش رنگ پیارے پیارے
یعنی، ترے آنسوؤں کے تارے
کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل!
قدرت تری ہم نفس ہے اے دل!

[/box]

 

انتخاب و پیشکش:              مسعودؔ

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment