کیسی ہے یہ تنہائی
اشعار بزمِ سخن

کیسی ہے یہ تنہائی

کیسی ہے یہ تنہائی

یسی ہے یہ تنہائی

کیسی ہے یہ تنہائی

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچیں گے میری شبِ تنہائی کو


۔کیسی ہے یہ تنہائی

روتے ہیں دل کے زخم تو ہنستا نہیں کوئی
اتنا تو فائدہ مجھے تنہائیوں سے ہے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو


کیسی ہے یہ تنہائی۔

شہر کی بھیڑ میں کھلتے ہیں کہاں اس کے نقوش
آؤ تنہائی میں سوچیں کہ وہ کیا لگتا ہے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

سناٹوں کو چوم رہی ہیں آوازیں شہنائی کی
چپکے چپکے کاٹ رہی ہے آگ مجھے تنہائی کی


کیسی ہے یہ تنہائی۔

تنہائی میں جو بات بھی کرتا نہیں پوری
تقریب میں مل جائے تو بیباک بہت ہے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

تنہائیوں سے خود کو بچانا پڑا مجھے
یادوں کا ایک شہر بسانا پڑا مجھے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

میں وہ گلشن گزیدہ ہوں کہ تنہائی کے موسم میں
نہیں ہوتے اگر کانٹے تو ڈستی ہے کلی مجھ کو


کیسی ہے یہ تنہائی۔

پل بھر کو مل کے اجرِ شناسائی دے گیا
اک شخص ساری عمر کی تنہائیدے گیا


کیسی ہے یہ تنہائی۔

اس کے ایماں پہ کیا ترکِ تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنہ تنہائی دے


کیسی ہے یہ تنہائی

خود اپنی ذات سے ہیں شناسائیاں تو ہیں
صحرا میں ہمسفر مری تنہائیاں تو ہیں


کیسی ہے یہ تنہائی

ڈھونڈتی رہتی ہیں تخیل کی باہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں


کیسی ہے یہ تنہائی

تیری تنہائیبھی محفل کا سماں رکھتی ہے
آرزو یہ ہے کبھی تجھ کو بھی تنہا دیکھوں


کیسی ہے یہ تنہائی

وقتِ بد میں کون دیتا ہے کسی کا ساتھ رندؔ
یارِ صادق اک ملی دنیا میں تنہائی مجھے


کیسی ہے یہ تنہائی

پھر وہی رات وہی ہم وہی تنہائی ہے
پھر ہر اک چوٹ محبت کی ابھر آئی ہے


کیسی ہے یہ تنہائی

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی


کیسی ہے یہ تنہائی

مری تنہائیوں سے آ کے عابدؔ کوئی تو پوچھے
کبھی جب چاندپورا ہو، سمندر چیختا کیوں ہے


کیسی ہے یہ تنہائی

پھیلی تھیں بھرے شہر میں تنہائی کی باتیں
شاید کوئی دیوار کے پیچھے بھی کھڑا ہے


کیسی ہے یہ تنہائی

اک آگ غمِ تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا


کیسی ہے یہ تنہائی

پت جھڑ سا لگے گا مجھے تنہائی کا موسم
اب کے بھی گزر جائے گا رسوائی کا موسم


کیسی ہے یہ تنہائی

جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے
یہ اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا


کیسی ہے یہ تنہائی

قیامت ہے دلِ مہجور کا احساسِ تنہائی
اکیلے اب تو ہم اکثر بھری محفل میں رہتے ہیں


کیسی ہے یہ تنہائی

وہی میں ہوں، وہی ہے تیرے غم کی کارفرمائی
کبھی تنہائی میں محفل، کبھی محفل میں تنہائی


کیسی ہے یہ تنہائی

جان و دل بیچ کے احسان اتارے اسکے
خود کو ناپید کیا نقش ابھارے اسکے
وہ خود تو یکتا تھا مگر عالمِ تنہائی میں
میں نے گھبرا کے کئی نام پکارے اسکے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

تنہائی میں لے جائیں گے سمجھائیں گے دل کو
پر مان بھی جائے گا یہ دعویٰ نہیں کرتے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

ہاں نہیں تیری رفاقت کی ضرورت مجھ کو
میری مونس، میری ہمدم، میری تنہائی ہے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

دل کو جب ڈسنے لگیں وحشت بھری تنہائیاں
ہم تیری یادوں کی اک محفل سجا کر رو دئیے


کیسی ہے یہ تنہائی۔

تنہائی

تنہائیِ شب میں ہے خزیں کیا؟
انجم نہیں تیرے تیرے ہمنشیں کیا؟
یہ رفعتِ آسمانِ خاموش
خوابیدہ زمیں، جہانِ خاموش
یہ چاند، یہ دشت و در، یہ کہسار
فطرت ہے تمام نسترن زار
موتی خوش رنگ پیارے پیارے
یعنی، ترے آنسوؤں کے تارے
کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل!
قدرت تری ہم نفس ہے اے دل!

 

انتخاب و پیشکش:              مسعودؔ

 

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment