میری ڈائری سے
اشعار بزمِ سخن

میری ڈائری سے

میری ڈائری سے

میری ڈائری سے – حصہ اوّل

 

میری ڈائری سے

اے جگرؔ ہے میری ہستی کی حقیقت اتنی
مجھ میں آباد ہیں سب، میں کہیں آباد نہیں

میری ڈائری سے

یہ تیری یاد ہے یا میری اذیت کوشی
ایک نشتر سا رگِ جاں کے قریب آج بھی ہے

میری ڈائری سے

جب وہ ملا تو کھو گیا میں خواہشوں کی بھیڑ میں
حاصل مجھے کتنا سکون اپنے اکیلے پن میں تھا

میری ڈائری سے

میں تیری طرح دل کو سمجھتا نہیں شیشہ
ورنہ اس دنیا سے شکایت ہے مجھے بھی

میری ڈائری سے

خواہشوں کا کوئی معیار ہوا کرتا ہے؟
کیسی خواہش ہے کہ مٹھی میں سمندر ہوتا

میری ڈائری سے

اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
تجھ کو کھو کر تو میرے پاس رہا کچھ بھی نہیں

میری ڈائری سے

میرے پڑوس میں گزرا ہے سانحہ کوئی
کہ سنگ آیا نہیں کوئی میرے آنگن میں

میری ڈائری سے

اک ایسی بارش ہو میرے شہر پہ جو
سارے دل اور سارے دریچے دھو جائے

میری ڈائری سے

یہ ایک لمحہ جو منسوب تیرے ہجر سے ہے
اس ایک لمحے میں صدیاں گزار بیٹھے ہیں

میری ڈائری سے

کس قدر تھی سادہ لوحی میرے جذبات میں کبھی
کتنی آسانی سے وہ شخص تماشا بنا گیا مجھے

میری ڈائری سے

تم اگر نہ آئے ہمارے سپنوں میں اے عدمؔ
تو پھر ہم راتوں کو سونا چھوڑ دیں گے

میری ڈائری سے

انشأ جی یہ اور نگر ہے اس بستی کی ریت یہی
سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند

میری ڈائری سے

انکے پیچھے نہ چلو ان کی تمنا نہ کرو
سائے پھر سائے ہیں ڈھل جائینگے کچھ دیر کے بعد

۔میری ڈائری سے

جا سمندر دیکھ لی ہم نے تیری دریا دلی
تشنہ لب رکھا صدف کو بوند پانی کے لیے

۔میری ڈائری سے

رکھتے ہیں جو اوروں کے لیے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے

۔میری ڈائری سے

یہ کہہ کے دل نے میرے حوصلے بڑھائے ہیں
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

۔میری ڈائری سے

میں تشنگی ہونٹوں پر لیے جب بھی گیا ہوں
شکنیں سی ابھر آئی ہیں دریا کی جبیں پر

۔میری ڈائری سے

ہو گئے خوش تو فرشتوں سے کرائے سجدے
آ گئے ضد پہ تو فردوس میں رہنے نہ دیا

۔میری ڈائری سے

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

۔میری ڈائری سے

اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی
کیسے مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو

۔میری ڈائری سے

روشن کرینگے خون سے ایسے چراغ ہم
بجھ بھی گئے اگر تو اجالا نہ جائیگا

۔میری ڈائری سے

روتے روتے سو گیا وہ اک روٹی کے لیے
اپنے بیٹے کو کھلونا دیکر بہلانا پڑا

۔میری ڈائری سے

میں نے سنا ہے ترکِ تعلق کے بعد
افسردہ گر نہیں تو وہ مسرور بھی نہیں

۔میری ڈائری سے

ہائے وہ اشک جو شائستہ آداب ہوا
دل سے نکلا بھی نہیں آنکھ سے پھیلا بھی نہیں

۔میری ڈائری سے

ایک مدت سے مری سوچ کا محور تو ہے
ایک مدت سے مری ذات کے اندر تو ہے
میں تیرے پیار کے ساحل پہ کھڑی ہوں تنہا
مری الفت، مری چاھت کا سمندر تو ہے

۔میری ڈائری سے

ہو گا  امیرِ شہر کا نہ مجھ سے احترام
میری زباں کے واسطے تالے خرید لو

۔میری ڈائری سے

تم نے تو کہہ دیا میں انہیں جانتا نہیں
ہم آب آب ہو گئے غیروں کے سامنے

۔میری ڈائری سے

یہ کیا سمجھ کے غمِ عشق دے رہے ہو مجھے
یہ کس نے تم سے کہا صاحبِ جگر ہوں میں

۔میری ڈائری سے

اندر کے میلے پن کا ملے کس طرح سراغ
اندازہ لوگ کرتے ہیں اجلے لباس سے

۔میری ڈائری سے

محسنؔ لگی نہ چوٹ نئی پھر خلوص میں
میں نے کہا نہ تھا کہ مرے یار سوچنا

۔میری ڈائری سے

اتنا بے حس کہ پگھلتا ہی نہ تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پتھر دیکھا

۔میری ڈائری سے

تو جو بدلا، بدل گئے ہم بھی
پیار کرتے تھے بندگی تو نہیں
وقت کٹ ہی جائیگا بہرصورت
تو کوئی شرطِ زندگی تو نہیں

!میری ڈائری سے

وہ جس کی یاد میں سارا جہان چھوڑ دیا
بنا کے اس نے بھی مجھے داستان چھوڑ دیا

!میری ڈائری سے

خود داریوں کا جسم، اناؤں کا دیوتا
ہائے وہ شخص پھر گیا اپنے اصولوں سے

Shab-o-Roz

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment