میری ڈائری سے - زبان عام پر
اشعار بزمِ سخن

میری ڈائری سے – زبان عام پر

اردوشاعری اپنی مثال آپ ہے، میری ڈائری میں ایک صفحہ ان اشعار کے نام ہے، جس کا ایک نہ ایک مصرعہ خاص ہے!

 

میری ڈائری سے - زبان عام پر

وہی کارواں، وہی راستے، وہی زندگی، وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر، کبھی تم نہیں، کبھی ہم نہیں

میری ڈائری سے - زبان عام پر

ہاں نہیں تیری رفاقت کی ضرورت مجھ کو
میری مونس، میری ہمدم، میری تنہائی

میری ڈائری سے - زبان عام پر

کوئی نیا احسان کہ ہمدمِ دیرینہ
جتنے پرانے زخم تھے بھرتے جاتے ہیں

میری ڈائری سے - زبان عام پر

وہ دلنواز ہے، لیکن نظرشناس نہیں
مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

میری ڈائری سے - زبان عام پر

قضا آئی، طبیب آیا، وہ آئے، دیکھ کون آیا
کس نے اے جنوں زنجیر کھڑکائی مرے در کی

میری ڈائری سے - زبان عام پر

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

میری ڈائری سے - زبان عام پر

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو پیا تیری

میری ڈائری سے - زبان عام پر

وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب
تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے

میری ڈائری سے - زبان عام پر

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب
ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

میری ڈائری سے - زبان عام پر

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

میری ڈائری سے - زبان عام پر

نالۂ بلبلِ شیدا تو سنا ہنس ہنس
اب جگر تھاک کے بیٹھو میری باری آئی

میری ڈائری سے - زبان عام پر

نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

میری ڈائری سے - زبان عام پر

غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ھی گیا
میری جانب سے تیرے دل میں غبار آ ھی گیا

میری ڈائری سے - زبان عام پر

قیس صحرا میں تنہا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں دیوانے دو

میری ڈائری سے - زبان عام پر

عذر آنے میں بھی ہےاور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں

میری ڈائری سے - زبان عام پر

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد

میری ڈائری سے - زبان عام پر

عمر تو ساری کٹی عشقِ بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلمان ہونگے

میری ڈائری سے - زبان عام پر

گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

میری ڈائری سے - زبان عام پر

نزاکت نازنینوں کے بنانے سے نہیں بنتی
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے

میری ڈائری سے

مت سہل اسے جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میری ڈائری سے

غزالاں! تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا، آخر ویرانے پہ کیا گزری

میری ڈائری سے

لائی حیات، آئے قضا، لے چلی چلے
اپنی خوشی آئے نہ اپنی خوشی چلے

میری ڈائری سے

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

میری ڈائری سے

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہو گئی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گئی

میری ڈائری سے

قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خوں کیونکر
جو چپ رہے گی زبان، خنجر لہو پکارے گا آستین کا

میری ڈائری سے

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

میری ڈائری سے

یہ دستورِزباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

میری ڈائری سے

ہم ہوئے ، تم ہوئے ، میرؔ ہوئے
اسکی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

میری ڈائری سے

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا

میری ڈائری سے

زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

میری ڈائری سے

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا
بات پہنچی تیری جوانی تک

میری ڈائری سے

وابستہ میری یاد سے کچھ تلخیاں بھی تھیں
اچھا ہوا جو تو نے فراموش کر دیا

میری ڈائری سے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

میری ڈائری سے

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

میری ڈائری سے

روزِ حساب جب میرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھکو بھی شرمسار کر

میری ڈائری سے

آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈتا تری محفل میں رہ گیا

میری ڈائری سے

دو کناروں کا ایک سنگم ہے
میرے اندر کا آدمی اور میں

انتخاب و پیشکش: مسعودؔ

Pegham Network

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment