بیاضِ وفا
اشعار بزمِ سخن

بیاضِ وفا

بیاضِ وفاحصہ اوٌل

بیاضِ وفا

گوشِ الطاف سے محروم صدائیں میری
جذبِ تاثیر سے مایوس دعائیں میری
اِک نظر دیکھ، نظر پھیر کے جانے والے
اب میرے حال پہ روتی ہیں وفائیں میری

بیاضِ وفا۔

چھپے ہیں اس میں نئی آرزو کے تاج محل
قبائے درد کا دامن نہ تار تار کرو
کبھی تو میری طرف دیکھ لو محبت سے
کبھی تو میری وفاؤں کا اعتبار کرو

بیاضِ وفا

وفا کے نام پر کچھ شعبدہ گر !
چرا لیتے ہیں ہاتھوں کی حنا تک

بیاضِ وفا

جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہ ہوں مومنؔ مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بیاضِ وفا

ثاقبؔ بڑی توقیر ہے اِس ضبطِ وفا میں
ہر اشک جو آنکھوں سے نہ ٹپکے گہر ہے

بیاضِ وفا۔

ثبوت آپ نہ مانگیں میری وفاؤں کا
متاعِ چاکِ گریباں ہنوز باقی ہے

۔بیاضِ وفا

صدمے جھیلوں، جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں
لیکن تیرے پاس وفا کا کوئی بھی معیار نہیں

۔بیاضِ وفا

اے کاش انتظار کی گھڑیاں نہ ختم ہوں
ورنہ تیری وفا کا بھرم ٹوٹ جائیگا

بیاضِ وفا۔

میری وفا میرے وعدے کا اعتبار کرو
ملن قریب ہے تھوڑا سا انتظار کرو

۔بیاضِ وفا

ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں

۔بیاضِ وفا

بیوفا تجھ سے شکایت ہے ستم کی بے جا
کیجیے اس سے کہ جو آگاہ وفا سے کچھ ہو

۔بیاضِ وفا

آغازِ وفا، انجامِ وفا، دو وقت یہ نازک ہوتے ہیں
کل ہم سے زمانہ برہم تھا، آج ان سے زمانہ برہم ہے

بیاضِ وفا ۔

اِک شمع دریچے کی چوکھٹ پہ جلا رکھنا
مایوس نہ پھر جاؤں ہاں پاسِ وفا رکھنا

بیاضِ وف۔ا

امیدِ عہدِ وفا اور اِن بتوں سے شکیلؔ
جو بھول کر بھی کسی سے وفا نہیں کرتے

انتخاب و پیشکش: مسعودؔ

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment