ہم اور تیری گلی
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

ہم اور تیری گلی سے سفر

ہم اور تیری گلی سے سفر

غزل میرؔ

ہم اور تیری گلی سے سفر، دروغ دروغ
کہاں دماغ ہمیں اسقدر، دروغ دروغ

تم اور ہم سے محبت تمہیں، خلاف خلاف
ہم اور الفتِ خوبِ وگر، دروغ دروغ

غلط غلط کہ رہیں تم سے ہم تنک غافل
تم اور پوچھو ہماری خبر، دروغ دروغ

فروغ کچھ نہیں دعویٰ کو صبحِ صادق کے
شبِ فراق کو کب ہے سحر، دروغ دروغ

کسو کے کہنے سے مت بدگماں ہو میرؔ سے تو
وہ اور اس کو کسو پر نظر، دروغ دروغ

میرتقی میرؔ

ہم اور تیری گلی سے سفر


مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment