آج کی رات
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

آج کی رات

آج کی رات

نظر آتا ہے مجھے اپنا سفر آج کی رات
نبض چل بسنے کی دیتی ہے خبر آج کی رات

دو گھڑی بیٹھے تکلیف جو کی ہے صاحب
بعد مدت کے تم آئے ہو ادھر آج کی   رات

روشنائی میں میں پاتا ہوں عدم کی ظلمت
اے قلم چھوٹے نہ مضمونِ کمر آج کی رات

صبح ہوتی نظر آتی نہیں ہر گز آتشؔ
بڑھ گئی روزِ قیامت سے مگر آج کی رات

شاعر: خواجہ حیدر علی آتشؔ


 

 

For Romanized Urdu see page 2

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment