اردوشعراویکی

سراج اورنگ آبادی

سراج اورنگ آبادی Siraj Aurangabadi

[mks_separator style=”solid” height=”3″]

اردو شعرا – ویکی

[mks_separator style=”solid” height=”2″]

سراج اورنگ آبادی

[mks_separator style=”solid” height=”1″]

عرصہ: 1712 تا 1763

[mks_separator style=”solid” height=”1″]

سراج اورنگ آبادی صوفیانہ شاعری کی طرف مائل تھے۔ آپ کا مکمل نام سراج الدین اورنگ آبادی تھا۔

سراج اورنگ آبادی فارسی کے شاعرِ اعطم حافط سے متاثر تھے۔ منتخب کلا کے نام سے آپ نے فارسی کے شعرا کا کلام اردو میں قلمبند کیا جسے کلیاتِ سراج میں شامل کر لیا گیا۔

اپنی عمر کے آخری حصے میں سراچ اورنگ آبادی نے دنیا کو خیر باد کہہ کر صوفی ازم کو اپناتے ہوئے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس کے باوجود آپ کے شاگرد اکثر آپ کے پاس اتے اور اصلاح و درس تو تدریس لیتے۔

سراج اورنگ آبادی کی مشہورِ زمانہ غزل “خبرِ تخیرِ عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی” عابدہ پروین نے اپنی سحر بھری آواز میں گا کر لازوال کر دی ہے۔

افسوس کہ سراچ اورنگ آبادی کی نسبت ہمارے پاس کوئی خاص علم نہیں۔

سراج اورنگ آبادی

[mks_separator style=”solid” height=”2″]

مسعودؔ

[mks_separator style=”solid” height=”2″]

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment