کلامِ ساغر: ایک نغمہ ایک تارا
ساغرصدیقی

کلامِ ساغر: ایک نغمہ ایک تارا

کلامِ ساغر: ایک نغمہ ایک تارا – aik naghma aik tara aik ghuncha aik jaam – aey gham-e-doran gham-e-doran tujhey mera salaam

کلامِ ساغر:   ایک نغمہ ایک تارا

ایک نغمہ ایک تارا ایک غنچہ ایک جام
اے غمِ دوراں! غمِ دوراں تجھے میرا سلام

زلف آوارہ، گریبان چاک، گھبرائی نظر
ان دنوں یہ ہے جہاں میں زندگانی کا نظام

چند تارے ٹوٹ کر دامن میں میرے آ گرے
میں نے پوچھا تھا ستاروں سے ترے غم کا مقام

کہہ رہے ہیں چند بچھڑے راہروں کے نقش پا
ہم کریں گے انقلاب جستجو کا اہتمام

پڑ گئیں پراہن صبح چمن پر سلوٹیں
یاد آ کر رہ گئی ہے بیخودی کی ایک شام

تیری عصمت ہو کہ ہو میری ہنر کی چاندنی
وقت کے بازار میں ہر چیز کے لگتے ہیں دام

ہم بنائیں گے یہاں ساغرؔ نئی تصویر شوق
ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام

شاعر: ساغرصدیقی


کلامِ ساغر: ایک نغمہ ایک تارا

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment