کلامِ ساغر: لپٹ کر رو لوں
ساغرصدیقی

کلامِ ساغر: لپٹ کر رو لوں

کلامِ ساغر: لپٹ کر رو لوں

کلامِ ساغر:   رو لوں

منزل غم کی فضاؤں سے لپٹ کر رو لوں
تیرے دامن کی ہواؤں سے لپٹ کر رو لوں

جام مے پینے سے پہلے مرا جی چاہتا ہے
بکھری زلفوں کی گھٹاؤں سے لپٹ کر وو لوں

زرد غنچوں کی نگاہوں میں نگاھیں ڈالوں
سرخ پھولوں کی قباؤں سے لپٹ کر رو لوں

آنے والے ترے رستے میں بچھاؤں آنکھیں
جانے والے ترے پاؤں سے لپٹ کر رو لوں

اپنے مجبور تقدس کے سہارے ساغرؔ
دیر و کعبہ کے خداؤں سے لپٹ کر رو لوں

شاعر: ساغرصدیقی


کلامِ ساغر: لپٹ کر رو لوں

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment