کلامِ ساغر: درویش مسکراتا ہے
ساغرصدیقی

کلامِ ساغر: درویش مسکراتا ہے

کلامِ ساغر: درویش مسکراتا ہے

کلامِ ساغر:    درویش مسکراتا ہے

چمن پہ دام پہ درویش مسکراتا ہے
ہر اک مقام پہ درویش مسکراتا ہے

صراحی بزم میں جب قہقہے اگلتی ہے
سکوتِ جام پہ درویش مسکراتا ہے

ہزار حشر اٹھا اے تغیر دوراں!
ترے حرام پہ درویش مسکراتا ہے

شفق میں خون شہیداں کا رنگ شامل ہے
فروغ شام پہ درویش مسکراتا ہے

کبھی خدا سے شکایت کبھی گلہ تجھ سے
مذاق عام پہ درویش مسکراتا ہے

ہوس مشیر ہو جس بادشاہ کی ساغرؔ
تو اس غلام پہ درویش مسکراتا ہے

شاعر: ساغرصدیقی


Chaman pe daam pe darvesh muskrata hai

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment