کلامِ ساغر: وقت نازک ہے
ساغرصدیقی

کلامِ ساغر: وقت نازک ہے

کلامِ ساغر: وقت نازک ہے

[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#41ebf4″]

کلامِ ساغر:    وقت نازک ہے

جام ٹکراؤ وقت نازک ہے
رنگ چھلکاؤ وقت نازک ہے

حسرتوں کی حسین قبروں پر
پھول برساؤ وقت نازک ہے

اک فریب اور زندگی کے لیے
ہاتھ پھیلاؤ وقت نازک ہے

رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کا
اب تو آ جاؤ وقت نازک ہے

تشنگی تشنگ ارے توبہ !
زلف لہراؤ وقت نازک ہے

بزمِ ساغرؔ ہے گوش بر آواز
کچھ تو فرماؤ وقت نازک ہے

شاعر: ساغرصدیقی

[/nk_awb]

فہرست کلامِ ساغر

jaam takrao waqt nazuk hai – rang chhalkao waqt nazuk hai

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment