دل نہ ہو گا تو جلاو گے کسے
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

دل نہ ہو گا تو جلاو گے کسے

دل نہ ہو گا تو جلاو گے کسے

دکھ کی روداد 

دکھ کی روداد سناؤ گے کسے
تم مرے بعد رلاؤ گے کسے

اس لئے یاد رہا ہوں تجھ کو
میں نہ ہوں گا تو بھلاؤ گے کسے

جب چلا جاؤں گا میں دور کہیں
بات بے بات ستاؤ گے کسے

بارشیں آ گئیں تنہا لوگو!
کس سے روٹھو گے مناؤ گے کسے

کس سے پوچھو گے محبت کا پتہ
روح کے زخم دکھاؤ گے کسے

دل اُسے سونپ رہے ہو فرحتؔ
دل نہ ہو گا تو جلاؤ گے کسے

شاعر: فرحت عباس شاہ

dukh ki rudaad sunao gey kissey, urdu aansu poetry, urdu poetry, farhat abbas shah

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment