نعرۂ مستانہ
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

نعرۂ مستانہ

نعرۂ مستانہ

میں نعرۂ مستانہ، میں شوخئ رندانہ

میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں پی کر بھی کہاں جانا

میں سوزِ محبت ہوں میں ایک قیامت ہوں
میں اشکِ ندامت ہوں میں گوہرِ یکدانہ

میں طاہرِ لاہوتی  میں جوھرِ ملکوتی 
ناسوتی نے کب مجھ کو اس حال میں پہچانا

میں شمعِ فروزاں ہوں میں آتشِ لرزاں ہوں
میں سوزشِ ہجراں ہوں میں منزلِ پروانہ

کس یاد کا صحرا ہوں کس چشم کا دریا ہوں
خود طور کا جلوہ ہوں ہے شکل کا بہانہ

میں حسنِ مجسم ہوں میں گیسوئے برہم ہوں
میں پھول ہوں شبنم ہوں میں جلوہِ جاناناں

میں واصفِ بسمل ہوں میں رونق محفل ہوں
اک ٹوٹا ہوا دل ہوں میں شہر میں ویرانہ

شاعر: واصف علی واصف

بزمِ شاعری

Main Naaraye Mastana Main Shokhi-e-Rindana, Wasif Ali Wasif, Abida Parveen.


مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment