کلامِ ساغر: نگاروں کے میلے
ساغرصدیقی

کلامِ ساغر: نگاروں کے میلے

کلامِ ساغر: نگاروں کے میلے

نگاروں کے میلے ستاروں کے جھرمٹ
بہت دلنشیں ہیں بہاروں کے جھرمٹ

جواں ہیں اگر ولولوں کے تلاطم
تو موجوں میں بھی ہیں کناروں کے جھرمٹ

میرے چار تنکوں کی تقدیر دیکھو
چمن در چمن شراروں کے جھرمٹ

تیری گیسوؤں سے جنم پا رہے ہیں
گلستاں گلستاں نظاروں کے جھرمٹ

چھلکتا رہا ہے میرا جام زریں
مہکتے رہے ہیں چناروں کے جھرمٹ

تجھے یار رکھیں گی ساغرؔ بہاریں
تری شعر میں گلغداروں کے جھرمٹ

شاعر: ساغرصدیقی


Nigar, mailey, sitarey, jhurmat, dilnasheen, bahar, mauj, kinara, tinka, taqdeer, chaman, gaisoo, nazara, jaam, Saghir Siddiqi, Shair

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment