خدا کرے کہ وہ
رومانٹک شاعری

خدا کرے کہ وہ

خدا کرے۔۔۔۔ 

خدا کرے کہ وہ میرا نصیب ہو جائے
وہ جتنا دور ہے اتنا قریب ہو جائے

تو چومتی ہے اے بادِ صبا بدن اسکا
تیری طرح سے ہی میرا نصیب ہو جائے

جو میرے خواب خیالوں کے آسماں پر ہے
اسی کے جسم کی خوشبو نصیب ہو جائے

جو دل میں ہے وہ نگاہوں سے صاف کہہ دیجے
تو پھر یہ سیف بڑا خوش نصیب ہو جائے

کبھی کسی کو اس طرح ٹوٹ کر نہ چاہا جائے کہ اسکے پل جینا دوبھر ہو جائے اور دل جانتے ہوئے بھی دعا کر اٹھے کہ تو میرا نصیب ہو جائے۔ تم لاکھ دور سہی لاکھ فاصلہ سہی مگر دعائیں وہ طاقت رکھتی ہیں کہ ناممکن کو ممکن کر دے۔۔۔ دیکھ تو آج بھی میرے دعاؤں میں شامل ہے۔۔ تو آج بھی میرے من میں بسی ہے اسی طرح جیسے کبھی تھی۔۔۔ جیسے کبھی تیرے وجود میرے پہلو میں تھا اور تیری خوشبو میری سانسیں چومتی تھیں۔۔۔۔۔ آج تو لاکھ دور ہے جہاں بادِ صبا تیرے وجود کو چومتی ہے، اب میری دعا ہے کہ اس بادِ صبا کی طرح میں بھی کبھی تیرے وجود کے انگ انگ کو چوموں۔۔۔ میرے خوابوں کو مہکانے والی۔۔۔ کاش پہلے کی نسبت تیرے جسم کی خوشبو میرے پاس ہو۔۔۔ میں جانتا ہوں اور تم بھی انکار نہیں کر سکتی کہ تیری آنکھوں میں بھی میری تصویر سجی ہے تو آج بھی میرے لیے بیکل ہے، پر زبان سے اقرار نہیں کرتی۔۔۔ ایسا ہو جائے تو سیفؔ کی طرح میرا بھی ایسا ہی نصیب ہو جائے۔۔۔

شاعر: سیف الدین سیفؔ

Khuda karey keh woh mera naseeb ho jaey, saif ahmed saif,


مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment