بات کرنی مجھے مشکل
گلدستۂ غزل

بات کرنی مجھے مشکل

یادیں

کبھی میں ہی تیری محفل کی جان تھا! رونقِ محفل تھا! کبھی تیری محفل کا ایک ایک پل میرے دم سے خوش مزاج تھا! مگر اب یہ حال ہے کہ تیری ہی محفل میں مجھے بولنا بھی مشکل ہو رہا ہے! نہ تو میری بات سنتی ہے نہ مجھے سنانے کا حوصلہ رھا ہے! تیری محفل کا ہر ڈب بدل گیا ہے!

نہ وہ چنچل سی رونق نہ وہ سرود و سازِ نغمہ و چنگ! نہ وہ رنگ نہ تو میرے اور میں تیرے سنگ! تیرا صبر و قرار، تیری امن و سکون، تیری روح کی شانتی، تیری محبت کی آرتی – کون چرا کر لے گیا؟ کس نے تیرے دل کو یہ بے چینی لگا دی، بد امنی بخش دی، کس نے تیری من میں ایک انجانی سے چبھن چبھا دی، اے دل تو کس کے لیے بیکل بیکل سا ہے؟ یہ حالت تو تیری کبھی ایسی نہ تھی، بہت دکھ سہے تھے تو پر تڑپ ایسی تو نہ تھی۔۔۔

یہ سب قصور انکی چتون کا ہے۔۔۔ وہ کافرِ عشق جس نے غمزہ اندازیوں سے تیرے تن من میں کو ایسا مسحور کیا کہ میری طبیعت ساری کی ساری تجھ میں مائل ہو گئی۔۔ 

تیری نظر میری دشمن تو ہمیشہ رھی، دزدیدہ نگاھی تیری مجھے ہمیشہ سلگاتی رہی، تڑپاتی رہی، جلاتی رہی مگر کیا خاص بات ہے آج تیری محفل میں کہ جو بے چینی میرے دل و جذبات میں آج مچائی ایسی کبھی نہ تھی

Baat karni mujhey mushkil kabhi aisi to na thi, Bahadur Shah Zafar, Mehdi Hassan


Pegham Urdu

مصنف کے بارے میں

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

تبصرہ کیجیے

Click here to post a comment